ڈیلی آرکائیو

2019-08-30

اظہر فراغ کا یومِ پیدائش سالگرہ کی مبارک August 31…

اظہر فراغ کا یومِ پیدائش سالگرہ کی مبارک August 31, 1980 پیدائش 31 اگست 1980۔ اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر جناب اظہر امین جن کا قلمی نام اظہر فراغ ہے گزشتہ بارہ سال سے بہاولپور میں مقیم ہیں اور ایک این جی او میں…

آج معروف افسانہ نگار اور شاعرہ امرتا پریتم کا یوم …

آج معروف افسانہ نگار اور شاعرہ امرتا پریتم کا یوم پیدائش ہے August 31, 1919 اُن کی پیدائش 31 اگست 1919 کی ہےاور جائے پیدائش گوجرانوالہ! تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے دہلی میں سکونت اختیار کر لی لیکن تقسیمِ پنجاب کی خونی لکیر عبور کرنے کا…

امۃ الفاطمہ مخفی ؔ لکھنوی (۱۹۰۲ء تا ۱۹۵۳ء) پردہ نش…

امۃ الفاطمہ مخفی ؔ لکھنوی (۱۹۰۲ء تا ۱۹۵۳ء) پردہ نشیں خاتون تھیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر گئیں۔ پختہ کلام شاعرہ تھیں۔ ... وسعتِ دل ارے معاذ اللہ ساری دنیا سمائی جاتی ہے ... پردہ ہے اک بقا کا، راز فنا نہ پوچھو مر کر بھی ساتھ ہم سے…

اشعار جن میں لفظ اردو بطور اردو زبان کے آیا ہے۔ …..

اشعار جن میں لفظ اردو بطور اردو زبان کے آیا ہے۔ ... وہ اردو کیا ہے، یہ ہندی زباں ہے کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے (مراد شاہ) کچھ لوگوں کے خیال میں یہ وہ پہلا اردو شعر ہے جس میں لفظ اردو بطور اردو زبان کے آیا ہے۔ یاد رہے کہ مراد شاہ اور…

محسن ؔبھوپالی بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے ج…

محسن ؔبھوپالی بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے جہاں بھی دھُوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے اُس امتحان میں سنگِین کِس طرح اُٹھتی دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے کٹھن تھی شرطِ رَہِ مسُتقِیم، کیا کرتے! ہر ایک موڑ پہ کُتبے سجا لیے ہم نے…

شوخئ نرگسِ مخمور جو یاد آتی ہے زندگی ہوش میں …

شوخئ نرگسِ مخمور جو یاد آتی ہے زندگی ہوش میں آتی ہے، بہک جاتی ہے محفلِ دہر میں دیکھا ہے جو تنہا مجھ کو زندگی آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہے ہم کو خورشیدِ ترقی سے گلہ ہے اے دوست تھی جہاں چھاؤں وہاں دھوپ نظر آتی ہے میری تسکیں…

جعفر حسین منظرؔ لکھنوی انتہائی شریف النفس، نرم گفت…

جعفر حسین منظرؔ لکھنوی انتہائی شریف النفس، نرم گفتار اور کہنہ مشق شاعر تھے۔ ان کے مجموعۂ کلام منظر ستاں کے چند منتخب اشعار پیش ہیں۔ ... خونِ دل ہوتا ہے جل جل کے رگوں میں پانی جب کہیں آنکھ کو اک اشک بہم ہوتا ہے ... آئے ہیں میت پہ تو شوخی…

آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں آپ سے کیا…

آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں شیشہِ دل کو توڑنا اُن کا تو ایک کھیل ہے ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں کاش وہ اپنے غم مجھے دے دے تو کچھ سکون ملے وہ کتنا بدنصیب ہے غم ہی جسے ملا…