ماہانہ آرکائیو

ستمبر 2019

ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ ماہر القادری ا…

ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ ماہر القادری ابھی دشت کربلا میں ہے بلند یہ ترانہ یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ ترا کام تن کی پوجا مرا کام من کی سیوا مجھے جستجو یقیں کی تجھے فکر آب و دانہ مرے شوق مضطرب سے ہے رواں نظام ہستی جو…

اے قوم! وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ اسلام ہے پھر تیر…

اے قوم! وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو

جوش ملیح آبادی انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہرقوم …

جوش ملیح آبادی انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ... جوش کے ایک سلام کے یہ شعر بھی دیکھیں محراب کی ہوس ہے نہ منبر کی آرزو ہم کو ہے طبل وپرچم ولشکر کی آرزو اس آرزو سے میرے لہو میں ہے جزرومد دشت بلا میں تھی جو…

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے ک…

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے سفر میں اب کے یہ تم تھے کہ خوش گمانی تھی یہی لگا کہ کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے غلافِ گل میں کبھی چاندنی کے پردے میں سنا ہے بھیس بدل کر بھی وہ نکلتا ہے لکھوں وہ نام تو…