ڈیلی آرکائیو

2020-05-04

رُخِ مصطفیٰؐ ہے وہ آئینہ کہ اب اور ایسا آئینہ نہ …

رُخِ مصطفیٰؐ ہے وہ آئینہ کہ اب اور ایسا آئینہ نہ کسی کی بزمِ خیال میں نہ دکانِ آئینہ ساز میں لُطف بدایونی .. (اکرام احمد) لطف بدایونی ایک نابینا شاعر تھے۔ ان کا ایک شعر انہیں ادب کی دنیا میں زندہ رکھے ہوئے یہ حضرت علامہ کی اس زمین میں…

“کیا دنیا میں کوئی ایسا ذی روح بھی ہے جس کو کوئی ت…

“کیا دنیا میں کوئی ایسا ذی روح بھی ہے جس کو کوئی تکلیف نا پہنچی ہو؟ مجھے اتنی تکلیف دی گئی ہے کہ اب میں اس کا خیال ہی نہیں کرتا۔ جب لوگ ہی اس قسم کہ ہیں تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔ اگر اس کا خیال کرو تو کام میں خلل پڑتا ہے۔ اور پھر…

قومی بچت کا ادارہ : اک مسلسل اذیت – نعیم صادق

اگر آپ آشوز، گلیگ اور گوانتانامو جیسے الفاظ سے بے زاری محسوس کرتے ہیں تو ہم آپ کی بدسلوکی کے خلاف شفافیت کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم، بہت سوں کو یہ احساس نہیں ہے کہ ہمارے پاس ہی، ہمارا اپناقومی بچت کا ادارہ ہے، جو پاکستان میں سب سے بڑا…

سائیکالوجی کی کتاب کی جادو نگری آپ کو کئ دن تک اپن…

سائیکالوجی کی کتاب کی جادو نگری آپ کو کئ دن تک اپنے سحر میں رکھے گی ،یہ انسان کی پوری زندگی کی سائیکالوجی۔ کا احاطہ کیے ہوئے ہے ، انسان کو مخصوص چیزیں ہی کیوں پسند آتی ہیں ، عورت اور مرد مخصوص قسم کی کوالٹیز والے افراد کی طرف ہی کیوں کشش…

مغنیوں کو بلاؤ کہ نیند آ جائے کہو وہ گیت سناؤ…

مغنیوں کو بلاؤ کہ نیند آ جائے کہو وہ گیت سناؤ کہ نیند آ جائے چلے بھی آؤ مرے جیتے جی اب اتنا بھی نہ انتظار بڑھاؤ کہ نیند آ جائے چراغِ عمرِ گذشتہ بجھا دیا کس نے وہی چراغ جلاؤ کہ نیند آ جائے حقیتوں نے تو کھل کھل کے نیند اڑا دی ہے…

موت کی آخری قسط۔۔احمد نعیم

مکالمہ 31 March 2020ء یہ تحریر 985 مرتبہ دیکھی گئی۔ جنگل میں صدیوں سے ڈٹا ہوا یہ پتلا گزشتہ صدی تک تو خاکی رنگ سے میٹ میلا ہوا تھا،مگر ان دس دہائیوں کے درمیان یہ مسلسل سیاہ…

چارلی چپلن نے کہا تھا اسے بارش اس لیے بھی پسند ہے …

چارلی چپلن نے کہا تھا اسے بارش اس لیے بھی پسند ہے کہ بارش کے دوران بہتے آنسو کوئی دیکھ نہیں پاتا۔ایک وقت تھا جب چارلی چپلن پھٹے ہوئے جوتوں میں پھرا کرتا تھا ایسے میں اسے ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی۔اس لڑکی نے اس وقت چارلی چپلن کے پھٹے ہوئے…