ڈیلی آرکائیو

2020-05-09

اساطیر سے متعلق بورخیس کی ایک کتاب The book of ima…

اساطیر سے متعلق بورخیس کی ایک کتاب The book of imaginary beings مجھے اتنی دلچسپ معلوم ہوئی کہ پڑھنا شروع کیا اور بالاخر ترجمہ کر ڈالا۔ اب ترجمے کی نوعیت کیسی ہے یہ توجب کتابی صورت میں آئے گی (پتہ نہیں کب آئے گی ) تب کی بات ہے۔ فی الحال اس…

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستو…

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی ۔ حفیظ جالندھری عرضِ ہنر بھی وجہِ شکایات ہو گئی چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی دشنام کا جواب نہ سوجھا بجُز سلام ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی دیکھا جو کھا کے تیر…

سائیکل سے مریخ تک۔۔۔۔وہارا امباکر

کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر موجود…

خودغرض معاشرہ۔۔حافظ صفوان ارشد | مکالمہ

لاشعور سے لے کر شعور کی بلندیوں تک، لاحاصل سے حاصل تک کا سفر ،بلندیوں سے پستی اور پستی سے بلندی کی جانب گامزن ، یہاں تک کہ  تسخیرِ کائنات ، ہواؤں کے دوش پر سفر ، ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی تمام تر تراکیب ،…

کورونا وائرس کی وبا اور مذہبی سوالات۔۔محمد عمار خان ناصر

کورونا وائرس کی حالیہ عالمی وبا کے تناظر میں مذہبی نوعیت کے بعض اہم سوالات بھی قومی سطح پر زیر ِبحث آئے اور مختلف حلقے ان پر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ مثلا ًکیا اس وبا کی نوعیت اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ یا سرزنش کی ہے یا…

روس کی تاریخ کے راز: روس کی حاکم ملکاؤں کے ہمزاد …

روس کی تاریخ کے راز: روس کی حاکم ملکاؤں کے ہمزاد یقینا" آپ نے، چاہے ایک بار ہی سہی، بھوتوں کے بارے میں سنا ہوگا، جو کسی غیر مرئی مقصد کی خاطر ہماری دنیا میں در آتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہونا ا چھے نتائج کی حامل نہیں ہوتی۔ سب سے برا تب…

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا ایک دن رات ڈھلے …

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا محمد طفیل 'نجیبؔ' کا یومِ پیدائش August 08, 1948 نام محمد طفیل اور تخلص نجیب ہے۔۸؍اگست ۱۹۴۷ء کو امرتسر میں پید اہوئے۔ دیال سنگھ کالج، لاہور سے بی اے کیا۔ کچھ عرصہ…

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہ…

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو بشیر بدر کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا…