ڈیلی آرکائیو

2020-05-17

عبیداللہ علیم کی وفات May 18, 1998 اردو کے ممتاز…

عبیداللہ علیم کی وفات May 18, 1998 اردو کے ممتاز شاعر عبیداللہ علیم 12 جون 1939ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ 1952ء میں وہ اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آگئے جہاں 1969ء میں انہوں نے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن میں بطور…

شفیق خلشؔ اِک ندامت عِوَض کا عیب نہیں پارسا کہنا…

شفیق خلشؔ اِک ندامت عِوَض کا عیب نہیں پارسا کہنا پھر بھی زیب نہیں ظاہر و باطن ایک رکھتا ہُوں مَیں ریاکار و پُر فریب نہیں ہُوں مَیں کچھ کچھ یہاں بھی شورِیدہ راست کہنا کہاں پہ عیب نہیں ہے تسلسل سے راہِ زیست گراں کُچھ تنزل نہیں، نشیب نہیں…

( غیــر مطبــوعـہ ) آنکھ مِری جانتی ہے مرتبہً شب …

( غیــر مطبــوعـہ ) آنکھ مِری جانتی ہے مرتبہً شب واقفِ اَسرار ہے یہ سوختہً شب جان کو آتی ہے اب یہ گہری خموشی کس نے کِیا بند ہے یہ ناطقہً شب یاد کہاں اس کو کون کتنا جلا تھا تیز ہی اتنا کہاں ہے حافظہً شب کان جسے دیکھتے ہیں آنکھ ہے…

افسانہ : رہبانیت۔۔!! مصنف : خلیل جبران۔۔!! •••••…

افسانہ : رہبانیت۔۔!! مصنف : خلیل جبران۔۔!! ••••• آج سے، بہت پہلے یہاں بہت دور پہاڑوں میں ایک راہب کا مسکن تھا۔۔ اس کی روح پاک تھی اور ضمیر روشن۔۔ زمین و آسمان کے تمام جان دار جوق در جوق اس کے حضور میں آتے، اور وہ ان سے باتیں کرتا۔۔ وہ بڑے…

اصولِ مئے کشی بدلا ، مزاجِ آرزو بدلا مگر ساق…

اصولِ مئے کشی بدلا ، مزاجِ آرزو بدلا مگر ساقی! نہ تیری انجمن بدلی نہ تُو بدلا ہم اپنی بزم میں بھی اجنبی معلوم ہوتے ہیں گلہ غیروں کا کیا کیجے جب اپنوں کا لہو بدلا غریبی میں بھی اکثر دیکھنے والوں نے دیکھا ہے کہ ہم نے جامِ جم سے بھی نہ…

مریم نواز غازی – فرحان کامرانی

2008ء میں نے ایم فل میں داخلہ لیا۔ ایک سال میں کورس ورک مکمل ہوا اور میں نے اپنی سپروائزر کا چناؤ کرکے اُنکی اجازت سے اپنی تحقیق کے موضوع کو جامعہ کراچی کے تحقیقی نگران بورڈ میں جمع کروا دیا۔ گو کہ میں نے دوران تعلیم اپنے اساتذہ کی…

جو گھر پہ رہے بَیرٹَولٹ برَیشت کی ایک نظم (Wer z…

جو گھر پہ رہے بَیرٹَولٹ برَیشت کی ایک نظم (Wer zu Hause bleibt / Bertolt Brecht) جو گھر پہ رہے جب جنگ شروع ہو جائے وہ چاہتا ہے کہ اس کی جنگ اور لڑیں ہاں دیکھنا ہو گا وقت سے پہلے اس کو یہ بھی جو بھاگتا ہے اس جنگ میں شامل ہونے سے شامل ہو گا…

تنہائی کئی سال میری نظریں کمرے کے دروازے پر جمی ر…

تنہائی کئی سال میری نظریں کمرے کے دروازے پر جمی رہیں میری آنکھیں تمھارے قدموں کی راہ دیکھتی رہ گئیں ہر کھلتے دروازے کے ساتھ محسوس ہوا کہ تو آیا بہت سے آنے والے ہم میں سے بہت سوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر چلے گئے تمھاری راہ تکتے تکتے ہماری…