ڈیلی آرکائیو

2020-05-25

’’اجتماعی بصیرت‘‘ کی تلاش کا ٹائیں ٹائیں فش ہوا سفر۔۔نصرت جاوید

دو ماہ کے طویل وقفے کے بعد بالآخر پیر کے روز سے قومی اسمبلی کاا جلاس شروع ہوگیا ہے۔عمران حکومت بحران کے دنوں میں پارلیمان سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ عوام کی نمائندگی کے بیشتر دعوے دار اس کی دانست میں سیاست دانوں کا روپ…

نیا سال خوشبو کی طرح اور اُجالوں کی طرح ہو یہ سا…

نیا سال خوشبو کی طرح اور اُجالوں کی طرح ہو یہ سال نہ گزرے ہوئے سالوں کی طرح ہو اِس سال نہ اِس دیس پہ آفت کوئی آئے اِس سال نہ داخل ہوں یہاں کرب کے سائے اِس سال نہ سیلاب اُٹھائے کوئی محشر اِس سال نہ برباد ہوں لوگوں کے حسین گھر اِس سال نہ…

"کرونا(کووڈ19) کے خلاف FIR" جی۔ حسین ش…

"کرونا(کووڈ19) کے خلاف FIR" جی۔ حسین شیخوپورہ۔ پاکستان ہم عالم انسان نے کرونا وائرس کے خلاف ایف ائی آر درج کروا دی ہے۔ وقوعہ کے مطابق اس وائرس نے کرہ ارض کے مشرق میں ملک چین کے ایک شہر ووہان میں پہلی واردات کا ارتکاب کیا۔…

فتنۂ خانقاہ اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ …

فتنۂ خانقاہ اک دن جو بہر فاتحہ اک بنتِ مہر و ماہ پہنچی نظر جھکائے ہوئے سوئے خانقاہ زُہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضرب لا اِلہ برپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا ایماں، دلوں میں لرزہ بہ اندام ہو گیا یوں آئی ہر نگاہ…

دل زلفِ بتاں میں ہے گرفتار ہمارا اس دام سے ہے چھو…

دل زلفِ بتاں میں ہے گرفتار ہمارا اس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہمارا بازارِ جہاں میں ہیں عجب جنسِ زبوں ہم کوئی نہیں اے وائے خریدار ہمارا تھی داورِ محشر سے توقع سو تجھے دیکھ وہ بھی نہ ہوا ہائے طرف دار ہمارا کیونکر نہ دمِ سرد بھریں ہم کہ ہر اک…

دشتِ تنہائی۔۔۔۔۔۔۔۔1 تحریر: ندیم رزاق کھوہارا وہ…

دشتِ تنہائی۔۔۔۔۔۔۔۔1 تحریر: ندیم رزاق کھوہارا وہ دنیا کی تنہا ترین عورت ہے جو چھہتر سالوں سے سائبیریا کے ایک تنہا مقام پر زندگی گذار رہی ہے۔ وہ دن بھر اپنے زندہ رہنے کا سامان اکٹھا کرتی ہے۔ شام ہوتی ہے سو جاتی ہے۔ اس کے پاس باتیں کرنے کے…

محبت کا گیت (Liebeslied) جرمن شاعر گوئٹے کی ای…

محبت کا گیت (Liebeslied) جرمن شاعر گوئٹے کی ایک نظم میں ہرن ہوں تم شرمیلی ہرنی میں ہوں اک پیڑ پنچھی تم برف میں ہوں تو تم آفتاب دن ہو تم تو میں ایک خواب میں سوؤں تو ہر شب نکل کر میرے دہن سے ہے اڑتا تمہاری طرف ایک طائر سنہری جس کی آواز…

" اُداس عیدیں " میں اُن کو کیسے کہوں ‘م…

" اُداس عیدیں " میں اُن کو کیسے کہوں ‘مبارک‘؟ وہ جن کے نورِ نظر گئے ہیں وہ مائیں جن کے جگر کے ٹکڑے گُلوں کی صورت بکھر گئے ہیں وہ جن کی دکھ سے بھری دعائیں فلک پہ ہلچل مچا رہی ہیں میرے ہی دِیں کی بہت سی نسلیں اداس عیدیں منا رہی…