ڈیلی آرکائیو

2020-07-04

عام آدمی کا پاکستان !

عثمان احمد کسانہدو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والی جماعت کے دو سالہ دور اقتدار کا سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے نیا پاکستان کھوجتے کھوجتے ہم پرانا بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ یہ تو درست ہے کے دنیا امید پہ

اے سٹرینجنیس ان مائی مائنڈ : حیرتوں کو للکارنا ضر…

اے سٹرینجنیس ان مائی مائنڈ : حیرتوں کو للکارنا ضروری ہے .... مشرف عالم ذوقینوبل انعام یافتہ ترک مصنف اورہان پاموک کی ایک کتاب ہے ، اے سٹرینجنیس ان مائی مائنڈ (A Strangeness in My Mind)۔ اکثر ہمارے دماغ میں ایک اجنبی ہوتا ہے ، جس سے ہم…

فکرِ معاش و عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں اس زندگی میں ا…

فکرِ معاش و عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کِیا کرے (سودا) مکمل غزل بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے قاتل ہماری نعش کو تشہیر ہے ضرور آئندہ تا کوئی نہ کسی سے وفا کرے اتنا لکھائیو مرے…

محمد اسد: پہلا پاکستانی – قسط اول(تعارف) – فلک شیر

شک نہیں، کہ ہر طرح کی حمد وثنا اللہ ہی کے لائق ہے، اسی کی ہم حمد بجا لاتے ہیں، اسی سے ہم استعانت چاہتے ہیں اور اسی سے بخشش کے طلبگار ہیں اور اسی کی ہم پناہ چاہتے ہیں اپنے نفوس کے شرور اور اعمال کی خرابیوں سے۔اے ذات باری تعالیٰ اے سب رحم…

"وبا کے دنوں میں محبت" 1880 سے 1930 تک ق…

"وبا کے دنوں میں محبت" 1880 سے 1930 تک قریباً نصف صدی کے عرصے کو گھیرے ہوئے ہے ۔۔ انیسویں صدی کے آخر میں لاطینی امریکہ میں کریبئین کے خطے میں اندازاً دو لاکھ افراد ہیضے کی وبا کا شکار ہوئے تھے ۔۔ اور پچاس سال کے عرصےتک کریبئین…

زندگی ایک ©©لو سٹوری | Khabrain Group Pakistan

علی سخن ورفلموں ، ڈراموں،ٹی وی چینلز اور موسیقی کے بارے میں بات کی جائے تو لوگ زیادہ شوق اور توجہ سے سنتے ہیں۔گذشتہ دس بارہ پندرہ برس سے پاکستان میں فلموں اور ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے ایسا زوال دیکھنے میں آرہا ہے کہ شائقین کی

بہار کون سی تجھ میں جمالِ یار نہ تھی؟ مشاہدہ تھا …

بہار کون سی تجھ میں جمالِ یار نہ تھی؟ مشاہدہ تھا ترا، سیرِ لالہ زار نہ تھی مہکتی زلفوں سے خوشے گُلوں کے چُھوٹ گرے کچھ اور جیسے کہ گنجائشِ بہار نہ تھی ہم اپنے دل ہی کو روتے تھے لیکن اُس کے لئے جہاں میں کون سی شے تھی جو بے قرار نہ تھی؟ تلاش…

ہلال سر پہ ہے، بیٹھا ہوں کیف میں سرشار خموش رات ک…

ہلال سر پہ ہے، بیٹھا ہوں کیف میں سرشار خموش رات کے جنبش میں ہیں لبِ گفتار مرے ضمیر میں کچھ دن سے ہے وہ کیفیّت فرازِ چرخ پہ جس طرح صبح کے آثار ہوا کی رَو میں کئی دن سے کہہ رہا ہے کوئی کہ تجھ سے رازِ دو عالم ہے مائلِ گفتار میں ہوں تو ذرۂ…