ڈیلی آرکائیو

2020-07-10

چٹھی میرے خان کے نام!

سلمیٰ اعوانوہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیںپر اب بہت ماےوس تھیں۔سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔اظہاریہ کا طریقہ کیا ہوگا؟اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے مےںکہا۔”ٹویٹر ،فیس بُک

~ جیسے میں بڑا ہوتا گیا ~ گئے وقتوں کی یہ بات ہے …

~ جیسے میں بڑا ہوتا گیا ~ گئے وقتوں کی یہ بات ہے اب تو اپنا خواب بھول چکُا تھا مگر اُس وقت بھی وہ وہیں پہ تھا آفتاب کی تابناکی لئے سامنے تھا پھر اک دیوار کھڑی ہونا شروع ہوئی آہستہ آہستہ سے میرے اور میرے خواب کے درمیان دیوار اتنی لمبی…

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی بیٹ…

اک پیلی چمکیلی چڑیا کالی آنکھ نشیلی سی بیٹھی ہے دریا کے کنارے میری طرح اکیلی سی جب میں نشیب رنگ و بو میں اترا اس کی یاد کے ساتھ اوس میں بھیگی دھوپ لگی ہے نرم ہری لچکیلی سی کس کو خبر میں کس رستے کی دھول بنوں یا پھول بنوں کیا جانے…

مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بلنڈرز (حصہ اوّل)۔۔عامر کاکازئی

مسئلہ  کشمیر کا آغاز جب برٹش گورنمٹ، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان تقسیم کا فارمولہ بن رہا تھا تو پرنسی سٹیٹس کے بارے میں مسلم لیگ نے اپنا فارمولہ دیا، جس کے مطابق جس علاقے کا کنٹرول راجہ مہاراجہ کے پاس…

رازِ اخوت کی محافظ ، مائیں اور ماﺅں جیسی!

اثر چوہانمعزز قارئین!۔ 1915ءمیں علاّمہ اقبالؒ کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہواتو، انہوں نے ” والدہ¿ محترمہ کی یاد میں “ کے عنوان سے ایک شہرہ آفاق نظم لکھی ، جس کا ہر شعر اپنی جگہ منفرد ہے۔ نظم کا ایک شعر پیش خدمت ہے….” مرنےوالوں

نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے زمیں کو س…

نہیں ۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے زمیں کو سر کرنا چاہتا تھا تیمور کوئی سنا ہے میں نے عجیب لگتا ہے شغل ایسا کہ ہم زمیں کیا بھلا بھی سکتے ہیں آسماں کو ذرا سی مے سے نہیں۔۔سکندر سے مجھ کو کوئی گلہ نہیں ہے مگر کروں کیا کہ میں نے دیکھے…

ہم نے عمران خان کی حمایت کیوں کی؟۔۔محمد عامر خاکوانی

آج کل ہر اس شخص سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آپ نے عمران خان کی حمایت کیوں کی تھی؟پچھلے دو برسو ں میں تحریک انصاف اور اس کے قائد نے اس برے طریقے سے اپنے ووٹرز، کارکنوں، حامیوں اور حسن ظن رکھنے والوں کو…

یہ مولوی سمعان خلیفہ میرے عزیز اور دور کے رشتہ دار…

یہ مولوی سمعان خلیفہ میرے عزیز اور دور کے رشتہ دار ہیں، نثر بہت عمدہ لکھتے ہیں، شعری ذوق اچھا تھا ہی اب خیر سے خود بھی شعر کہنے لگ گئے - کچھ دن قبل ایک مناجات بھی بڑے اعلٰی معیار کی کہی تھی! انہیں میرے متعلق خدا جانے کیا خوش فہمی ہے کہ جب…

ناروے کے نوبل انعام یافتہ ادیب کھنوت ہامسن کا مختص…

ناروے کے نوبل انعام یافتہ ادیب کھنوت ہامسن کا مختصر تعارفتحریر: شگفتہ شاہ (ناورے)کھنوت ہامسن (پیدائش: ۴اگست ۱۸۵۹ء - وفات: ۱۹فروری۱۹۵۲ء) ناروے کے سب سے اہم اور جدید ناول نگاری کےبانی ادیبوں میں شمارکئے جاتے ہیں۔ ناروے میں انہیں بیسویں صدی…