ڈیلی آرکائیو

2020-07-18

یہ میری آنکھ ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​آج آٹھ برسوں کے بعد مرحوم لطف الرحمن کا تحریر کر دہ ایک مضمون جو شاید انڈیا کے کسی رسالے اور الحمرا (لاہور) میں شامل اشاعت ہوا تھا، نظر سے گزرا۔ یہ مضمون اس قدر بلیغ تھا کہ میرے دل میں کھُب گیا اور میں نے سوچا اسے دوبارہ اشاعت کے…

تحقیقات بتاتی ہیں کہ آج دُنیا کے نقشے پر "صحا…

تحقیقات بتاتی ہیں کہ آج دُنیا کے نقشے پر "صحارا" کے نام سے دکھائی دینے والا عظیم صحرا، سینکڑوں سال قبل اپنے سینے پر مختلف انواع کی زندگی سجائے رکھتا تھا، یہاں درختوں کی لمبی قطاریں موجود تھیں۔ اِن درختوں میں سے ایک…

سالگرہ مبارک سعید خان July 19, 1966 … ……….

سالگرہ مبارک سعید خان July 19, 1966 ... ............. کس قدر تجھ کو تری ذات سے ہٹ کر سوچا حد تو یہ تجھے اوروں سے لپٹ کر سوچا محو ہو کر تری خوشبو کے گماں میں اکثر ہم نے صدیوں کو بھی لمحوں میں سمٹ کر سوچا عشق بنیاد میں شامل تھا سدا سے اپنی…

دیمک بہتر یا کیڑا؟۔۔روبینہ فیصل

لارڈز لندن ہے۔۔۔اس اگست2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اُس وقت کے صدر ِ پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق،” مل کے کھاؤ اور مٹی پاؤ” پالیسی پر قائم رہنے کا تجدید ِ عہد بھی کر لیں۔…

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا م…

قریب سے نہ گزر انتظار باقی رکھ قرابتوں کا مگر اعتبار باقی رکھ بکھرنا ہے تو فضا میں بکھیر دے خوشبو حیا نظر میں،قدم میں وقار باقی رکھ ہمیں ہمارے ہی خوابوں سے کون روکے گا کھینچا ہوا ہے تو خطِ حصار باقی رکھ ترا وجود عبارت ہے خوش…

اردو ادب میں جو شہرت اور پزیرائی غالب اور منٹو کو …

اردو ادب میں جو شہرت اور پزیرائی غالب اور منٹو کو ملی ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ دونوں روایت شکن، دونوں خودسر۔ ایک نے لال قلعے کو اجڑتے اور مغل شان و شکوہ کو رزق ہوا ہوتے دیکھا، تو دوسرے نے ہندوستان کی خون آشام تقسیم کو دیکھا اور سہا۔ لیکن…

تجدید ۔۔مختار پارس | مکالمہ

امکانِ تجدیدِ وفا کی کوئی صورت نکالی جاۓ، مالک سے یوں بے رخی تو حیوان بھی نہیں کرتے۔ یہ طبیعت کی نارسائی ہے یا اذہان کی ابتلا کہ انسان کسی کرم، کسی مہربانی کو خاطرِ پریشاں میں جگہ ہی نہیں دیتا۔ خود کو ذرا…

سدھارتھ از ہرمن ہیس تبصرہ: علی عبداللہ ایک خوبصو…

سدھارتھ از ہرمن ہیس تبصرہ: علی عبداللہ ایک خوبصورت ناول کا اختتام ہوا- سکون کی تلاش میں نکلنے اور صرف اپنے ضمیر کی آواز سننے پر بضد سدھارتھ کو روشنی ملی بھی تو کتنے تجربات کے بعد، وہ سدھارتھ بن کے دنیا میں داخل ہوا اور گوتم بن کر اسی دنیا…