ڈیلی آرکائیو

2020-07-25

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت اور ایک گھریلو سی نصیحت۔۔روبینہ فیصل

لائلپور سے ایک بزرگ ریٹائرڈ سکول ٹیچر حلیمہ صاحبہ کی ای میل آئی کہ” آپ سماجی اور خاندانی رویوں پر زیادہ بات کیا کریں کہ آپ جیسی، انسان پرست اور وسیع سوچ کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے، اور معاشرے کی بنیاد تب ہی اچھی پڑے گی جب اچھے…

یہ امر واقعہ ہے کہ کسی ناول کا ایسا خوبصورت اور جا…

یہ امر واقعہ ہے کہ کسی ناول کا ایسا خوبصورت اور جاندار ترجمہ میں نے آج تک نہیں پڑھا. کسی بھی صفحے پر احساس نہیں ہوا کہ میں اردو ادب نہیں پڑھ رہا بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے میں احمد بشیر کا ناول پڑھ رہا ہوں. اس نہایت عمدہ ترجمہ کی ایک وجہ یہ…

ہوائیں تیز تھیں، یہ تو فقط بہانے تھے سفینے یوں بھ…

ہوائیں تیز تھیں، یہ تو فقط بہانے تھے سفینے یوں بھی کنارے پہ کب لگانے تھے خیال آتا ہے رہ رہ کے لوٹ جانے کا سفر سے پہلے ہمیں اپنے گھر جلانے تھے گمان تھا کہ سمجھ لیں گے موسموں کا مزاج کُھلی جو آنکھ تو زد پر سبھی ٹھکانے تھے ہمیں بھی آج…

جو دن کسی کے ساتھ گُزرے، نہ مل سکے حالات گیسوؤں …

جو دن کسی کے ساتھ گُزرے، نہ مل سکے حالات گیسوؤں کو سنوارے، نہ مل سکے جن کشتیوں کو میرے مقدر کی رو ملی اُن کشتیوں کو گھاٹ کنارے، نہ مل سکے تُم کیا گئے کہ رونقِ ہستی چلی گئی غنچے نہ مسکرائے، ستارے نہ مل سکے دریا کو کُچھ…

سلیم فواد کندی : آپ نے ناول کا عنوان " قربت م…

سلیم فواد کندی : آپ نے ناول کا عنوان " قربت مرگ میں محبت " کیوں منتخب کیا، آپ نے قربت مرگ اور محبت کو کیسے relate کیا ہے۔۔؟ مستنصر حسین تارڑ : اچھا بنیادی طور پر یہ ہے کہ یہ عنوان، میں متاثر ہوا ہوں، گابرئیل گارسیا مارکیز کے…

حزب اختلاف کا سیاسی بیانیہ – سلما ن عابد

پاکستان کی مجموعی سیاست حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان محاذ آرائی، الزام تراشیوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جمہوری سیاست مضبوط ہونے کی بجائے کمز ور ہوئی ہے۔ اس وقت بھی حزب اختلاف کی سیاست اپنے اندر لاتعداد مسائل،…

مشتاق احمد یوسفی: نجات اس کی جو بیچ دریا سے پیاسا لوٹ آئے۔۔ڈاکٹر طاہر منصور قاضی

یہ مضمون 26 اپریل 2015 کو رائیٹرز فورم ٹورونٹو کینیڈا کے اجلاس میں پڑھا گیا تھا معزز خواتین و حضرات: ہماری اردو تحریر کی نجابت میں دو چیزیں حائل ہیں۔ ایک انگریزی اور دوسرے ڈاکٹری۔ آج بہت زمانے کے بعد مشتاق احمد یوسفی اور ان کی نئی…

کچھ ناطقؔ مالوی کے اشعار ….. کچھ لوگ خوش آواز …

کچھ ناطقؔ مالوی کے اشعار ..... کچھ لوگ خوش آواز ہوا کرتے ہیں کچھ کہنے کے انداز ہوا کرتے ہیں یہ وصف نہیں جن میں، وہ ناطقؔ کی طرح اک نغمۂ بے ساز ہوا کرتے ہیں .... در گزر مدِّ نظر ہے چرخِ بے بنیاد کی ورنہ صرف اک آہ کافی تھی دلِ ناشاد کی ....…