ڈیلی آرکائیو

2020-07-28

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خ…

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں پرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو پرسشِ حال ، طبیعت کو گوارا بھی نہیں یوں سرِ راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر تم نے دیکھا بھی نہیں، ہم نے…

رموزِ مملکت – ادا جعفری آپ مسند نشیں آپ جو چاہیں…

رموزِ مملکت - ادا جعفری آپ مسند نشیں آپ جو چاہیں ارشاد فرمائیے مصلحت آپ کی آپ جن سے مخاطب ہوئے ان کی بات اور ہے ان کی مجبوریاں اور ہیں وہ سہولت کی خاطر کبھی اور کبھی صرف جینے کی خاطر بھی ہر وعدہ ٔدلکشا کی حقیقت کو پہچاننے سے گریزاں رہیں…

سوزِ دل کیا ہے، چشمِ نم کیا ہے جس پہ بیتے وہ جانے…

سوزِ دل کیا ہے، چشمِ نم کیا ہے جس پہ بیتے وہ جانے غم کیا ہے کبھی دریا میں جو نہیں اترا کیسے بتلائے، زیر و بم کیا ہے زیست سے بڑھ کے تلخ و شیریں نہیں قند کیا چیز ہے یہ سم کیا ہے ہے کوئی تم کو پوچھنے والا؟ یونہی کرتے رہو، ستم کیا ہے آئینہ…

مشکل وقت – سیدہ فاطمہ رضوی سامنا جب بھی ہو کوئی د…

مشکل وقت – سیدہ فاطمہ رضوی سامنا جب بھی ہو کوئی دشواری کا ننھے پرندوں سے سیکھو کیا کرنا ہے گھونسلے میں ان کے ہلچل ہوجائے تو ننھا بچہ گر بیکل ہوجائے تو جہاں بھی ہوں سب اُڑ اُڑ کر وہ آجاتے ہیں مشکل وقت میں سب یکجا ہوجاتے ہیں ننھے پرندوں سے…

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا بس اب بقدرِ …

نہ فاصلے کوئی رکھنا نہ قربتیں رکھنا بس اب بقدرِ غزل اس سے نسبتیں رکھنا یہ کس تعلقِ خاطر کا دے رہا ہے سراغ کبھی کبھی ترا مجھ سے شکایتیں رکھنا میں اپنے سچ کو چھپاؤں تو روح شور مچائے عذاب ہو گیا میرا سماعتیں رکھنا---!!! فضائے شہر میں…

دیارِ غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے مگر تھے کو…

دیارِ غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے مگر تھے کون اپنے جن کے دعوؤں سے پگھل جاتے ؟ ستمگر کی حقیقت کو بتانا کام تھا میرا یہ تم پر منحصر ہے تم مُکر جاتے سنبھل جاتے ہمارے دل میں جو طوفان دبائے ہم ہی بیٹھے ہیں اگر ان کا پتا دیتے ہزاروں دل دہل…