ماہانہ آرکائیو

ستمبر 2020

شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے ہم اس سے ب…

شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے .. شیکب جلالی کی پیدائش Oct 01, 1934 12 نومبر 1966ء کو اس خبر نے کہ اردو کے صاحب اسلوب شاعر شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی ہے، پوری…

اردو زبان اور قرآن مجید، دینی و روحانی تعلق – حافظ محمد زوہیب حنیف

یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی زندہ زبان جامد اور متعیّن شکل میں ہر گز قائم نہیں رہ سکتی۔ عالمی سیاست کی ہلچل، مقامی سیاست کی اُکھاڑ بچھاڑ، عالمی سطح پر آنے والے تہذیبی انقلاب اور مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی موٹی ثقافتی سرگرمیاں، یہ سب عوامل…

خوشی محمد ناظر کا یومِ وفات October 01, 1944 چود…

خوشی محمد ناظر کا یومِ وفات October 01, 1944 چودھری خوشی محمد، ناظر تخلص والد کا نام چوھدری مولاداد خاں ، موضع ہریا والا ضلع گجرات پنجاب میں 1389ھ مطابق 1872ء میں پیدا ہوئے۔ کالج کی تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے اور جہاں سے 1893ء میں بی اے کی…

گونگی شب اور جنگل (جرمن شاعر ہائنرش ہائنے کی ای…

گونگی شب اور جنگل (جرمن شاعر ہائنرش ہائنے کی ایک مختصر نظم) آدھی ڈھل بھی گئی تھی گونگی شب اور سرد بہت میں ٹھوکریں کھاتا جنگل میں، شاکی تھا، ڈھونڈ رہا تھا رستہ چیخ کے میں نے پیڑ جگائے گہری نیند سے کچھ اداس ہوئے مگر انہوں نے بھی نفی میں…

قطرہ۔۔اقتدار جاوید | مکالمہ

یہ شہر ہے کہ شہرزاد کی کہانی‘ ہر رات ایک ایک نیا تجسس‘ ایک الگ طلسم۔ نہ شہرزاد کی کہانی ختم ہوتی ہے نہ اس شہر کا حسن ماند پڑتا ہے۔ کوئی نشہ ہے کہ یہاں شمال اور جنوب سے قافلے امنڈتے رہے ہیں اور اب بھی…

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے یہی بہت ہے …

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے یہی بہت ہے کہ آنکھوں میں کچھ نمی آئے اندھیری رات میں کاسہ بدست بیٹھا ہوں نہیں یہ آس کہ آنکھوں میں روشنی آئے ملے وہ ہم سے مگر جیسے غیر ملتے ہیں وہ آئے دل میں، مگر جیسے اجنبی آئے خود اپنے…

. “ نغمۃ زندگی ” A psalm of L…

. “ نغمۃ زندگی ” A psalm of Life (ایک نوجوان کا دل مذہی گیت سنانے والے سے کیا کہتا ہے؟) مُجھے نہ بتائیں ،غم ناک عداد و شمار (یہ کہ) زندگی اک بے معنی خواب ہے یہ مردہ روح لوگ نیند میں ہیں زندگی ایسی نہیں ہے جیسی ان کو…

بازارِ زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ ہیں مشت…

بازارِ زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگ ہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگ مدت سے پھر رہا ہوں خود اپنی تلاش میں ہر لمحہ لڑ رہا ہوں خود اپنے خلاف جنگ اک نام لوحِ ذہن سے مٹتا نہیں ہے کیوں کیوں آخر اس پہ وقت چڑھاتا نہیں ہے…