ڈیلی آرکائیو

2020-09-20

( غیر مطبوعہ ) ظلم کی انتہا تک پہنچتے ہوئے شام ہو…

( غیر مطبوعہ ) ظلم کی انتہا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی قافلہ کربلا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی میں تو شعلہ دکھانے میں مصروف تھا کیا خبر تھی مجھے اس دیے کو ہوا تک پہنچتے ہوئے شام ہو جائے گی کیا ملے گا مجھے دن ڈھلے منزلِ رفتگاں کا…

" دیر آید " وہ دن بھی تھے کہ کبھی سرسری…

" دیر آید " وہ دن بھی تھے کہ کبھی سرسری سی باتوں پر تمہارے جاگتے، مہکے ہوئے بدن کی صدا ہزاروں میل سے ایسے سنائی دیتی تھی کہ جیسے یہ مرے اپنے بدن سے آئی ہو یہ دن بھی ہیں مرے سینے سے لگ رہی ہو تم تمہارا جسم مرے بازوؤں میں سمٹا ہے…

عمر فرحت : اورحان پامک نے اس ناول کو ایک حیرت انگی…

عمر فرحت : اورحان پامک نے اس ناول کو ایک حیرت انگیز تخلیق کہا ہے۔۔ پامک کا یہ جملہ دیکھ کر آپ کو کیسا محسوس ہؤا۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی : خوشی تو ہوئی تھوڑی بہت۔۔ لیکن کسی ایک شخص کی تحسین، خواہ وہ کتنا ہی بڑا ناول نگار کیوں نہ ہو، وہ معنی…

ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے معتقد کون نہیں…

ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا میرؔ تقی میر کو ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے متفقہ " خداۓ سخن" کا خطاب دیا ہے ۔ اردو کے بڑے بڑے شاعروں نے میرؔ کی استادی اور شاعرانہ کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ مرزا…

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں …. …

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں .... کمر دھوکا دہن عقدہ غزال آنکھیں پری چہرہ شکم ہیرا بدن خوشبو جبیں دریا زباں عیسیٰ واجد علی شاہ اختر ... خواب میں آنکھیں جو تلووں سے ملیں بولے اف اف پاؤں میرا چھل گیا امیر مینائی ... ہے لال…

میری والدہ بَیٹی ہائنے کے نام (جرمن شاعر ہائنرش …

میری والدہ بَیٹی ہائنے کے نام (جرمن شاعر ہائنرش ہائنے کی ایک نظم) مجھے عادت ہے اپنا سر ہمیشہ بلند کیے رکھنے کی میری سوچ بھی کچھ سخت اور غیر لچکدار ہے کوئی بادشاہ بھی میرے چہرے کی طرف دیکھے تو میں احتراماً نظریں جھکا دینے کا قائل نہیں…

السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ امید واثق ہے تمام ا…

السلام علیکم ورحمتہ ﷲ وبرکاتہ امید واثق ہے تمام احباب خیر و عافیت سے ہوں گے سب سے پہلے مس طیبہ تحسین کو گروپ میں خوش آمدید ❤️❤️❤️ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ان کی شاگردی نصیب ہوئی، استاد سبھی بہترین ہوتے ہیں لیکن مس طیبہ تحسین ایک بے…

مولانا عامر عثمانی نظم ہے بجا ظلمت، امروز کا شکو…

مولانا عامر عثمانی نظم ہے بجا ظلمت، امروز کا شکوہ لیکن دوستو ظلمتِ فردا کی بھی کچھ فکرکرو آج کی رات ہے موزوںِ سخن ، ٹھیک ہے مگر آنے والی ہے جو کل ، اس کا بھی کچھ ذکر کرو آج کی رات بھیانک سہی ، تاریک سہی پھر بھی گردوں پہ ستارے تو چمک جاتے…

میر تقی میرؔ کی برسی Sep 20, 1810 میرؔ کا انتقال…

میر تقی میرؔ کی برسی Sep 20, 1810 میرؔ کا انتقال 20 ستمبر 1810ء میں لکھنو میں ہوایوں اُن کو اس جہان ِ فانی سے گزرے 200 برس سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تاہم اُردو شاعری میں اُن کی عظمت کااعتراف آج بھی کیاجاتا ہے میر تقی، میرؔ تخلص ، آگر ہ…