ڈیلی آرکائیو

2020-10-21

بیدار انسان اور اپنی ذات کی تلاش بیدار انسانوں کا…

بیدار انسان اور اپنی ذات کی تلاش بیدار انسانوں کا اس کے علاوہ اور کوئی فرض، سرے سے اور کوئی بھی دوسرا فرض، ہوتا ہی نہیں کہ وہ اپنی ذات کا کھوج لگائیں، اپنے اندر کو مستحکم بنائیں اور اپنے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کریں، چاہے وہ راستہ…

جنونِ عشق کو دامن تو تار تار ملا مزا تو جب ہے گری…

جنونِ عشق کو دامن تو تار تار ملا مزا تو جب ہے گریباں بھی تار تار ملے .. وصفیؔ بہراچی کا یومِ ولادت October 22, 1914 عبد_الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی ضلع بہرائچ کے ایک مشہور استاد تھے۔ جناب کی پیدائش 22؍اکتوبر 1914ء کو شہر کے محلہ میراخیل…

( غیر مطبوعہ ) ہجُــــــومِ حلقــــہِ آشُـــفتــگ…

( غیر مطبوعہ ) ہجُــــــومِ حلقــــہِ آشُـــفتــگاں سے باہَر آ بَہ زورِ عشق خِـرَد کی کماں سے باہَر آ تصــوُّفِ غم ِ یزداں کی فکر ہے تجھ کو حِصارِ ذات سے' نام و نشاں سے باہَر آ تُو اپنے جسم کے جلتے دیے کی لَو سے مِل سخُـن نہ کر…

( غیر مطبوعہ ) کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب …

( غیر مطبوعہ ) کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے آسماں سے گِر کے مجھ میں پارہ پارہ خواب ہے نقل ہے یہ کائنات اک کائناتِ اصل کی وہم ہے ہر عالمِ اشیاء یہ سارا خواب ہے کاش پہلے دن سے ہم پر آئنہ ہوتا یہ راز جو کبھی پورا نہ ہو گا وہ ہمارا…

مصنف: خلیل جبران مترجم : حیدر جاوید سید انتخاب…

مصنف: خلیل جبران مترجم : حیدر جاوید سید انتخاب و ٹائپنگ:@shams ullah khan ~جب میرا #غم پیدا ہوا~ جب میرا غم پیدا ہوا تو میں نے اسے بڑی محبت سے۔ پالا اور اس کی بڑی احتیاط سے نگہداشت کی۔ میرا غم دوسری چیزوں کی طرح نشوونما…

اَن کہی فریاد۔۔حسین مرزا | مکالمہ

SHOPPINGSHOPPINGایک دفعہ کچھ یوں ہوا، گاؤں والوں کو حُکم ہوا کہ سب باری باری دربار میں آؤ اور اپنی گزارشات بیان کرو۔۔ ایک ایک کرکے فریادی آئے، اور اپنی فریادیں مانگیں۔ سارا گاؤں دربار میں اکھٹا ہو گیا…

سایہ۔۔عمر قدیر اعوان | مکالمہ

SHOPPINGSHOPPINGمیرا نام رفعت ہے یا شاید شکُنتلا۔ پہلے 12 سال تک تو رفعت ہی تھا پھر کچھ دن کے لیے شکنتلا ہو گیا۔ پھر یہ معمول بن گیا کچھ دن رفعت تو کچھ دن شکنتلا. میرے پاس الفاظ بھی تھے کہانی بھی ,بیان کی…

دل ہے بڑی خوشی سے اسے پائمال کر لیکن ترے نثار،…

دل ہے بڑی خوشی سے اسے پائمال کر لیکن ترے نثار، ذرا دیکھ بھال کر اتنا تو دل فریب نہ تھا دامِ زندگی لے آئے اعتبار کے سانچے میں ڈھال کر ساقی مرے خلوص کی شدت کو دیکھنا پھر آ گیا ہوں گردشِ دوراں کو ٹال کر اے دوست تیری زلفِ پریشاں…