ڈیلی آرکائیو

2020-11-16

آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں وہ بھی اس دور میں…

آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیں وہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں ... امید فاضلی کا یومِ پیدائش November 17, 1923 امید فاضلی کا اصل نام ارشاد احمد تھا اور وہ 17 نومبر 1923ءکو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے…

"یہ عورت مردوں کے بھیس میں مسجد میں گھس گئی ت…

"یہ عورت مردوں کے بھیس میں مسجد میں گھس گئی تا کہ صالح مسلمانوں کو دھوکہ دے سکے" بیبرس نے کہا۔ "تو کیا تم مجھے یہ بتا رہے ہو کہ تم کسی انسان کو اس لیے سزا دینا چاہتے ہو کہ وہ مسجد میں کیوں داخل ہوا؟" شمس تبریز نے ملامت…

متفرق کلام اسد ملتانی …… بھید کھُل جاتا ہے ب…

متفرق کلام اسد ملتانی ...... بھید کھُل جاتا ہے بیچارگی ء دولت کا جب کسی قصر سے ماتم کی صدا آتی ہے فرحت آبادِ محبت ہے اسد گھر میرا رات دن گلشنِ جنت کی ہوا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپوا جھومر کے تماشے میں جو بن بن کے اداکار بیگم کوئی جھومی…

ہم اپنی زندگی میں تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات…

ہم اپنی زندگی میں تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات کو حاصل کر کے یا مختلف لوگوں کی تحریروں کے ذریعے ہم تک پہنچنے والے واقعات کو پڑھتے ہوئے یا پڑھ کر یہ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ دلچسپ، تکلیف دہ، محسورکر دینے والا یا…

ہم اُن کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے …

ہم اُن کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیں ہمارے دل میں ہے یاد اُن کی جو ہم کو دل سے بُھلا چکے ہیں بلائے محشر بھی سہل اُن کو، عذابِ دوزخ بھی اُن کو آساں جو تیری اُلفت میں اپنے دل پر غمِ جدائی اُٹھا چکے ہیں عدُو سے جا کر…

رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں تمام شہ رہ…

رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں تمام شہ رہے دوچار دس کی بات نہیں ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی فقط اسیری ء دام و قفس کی بات نہیں نگاہِ دوست سے ہوتی ہے دل کی نشو و نما یہاں مقابلہ ء خار و خس کی بات نہیں پسندِ خاطرِ اہلِ صفا ہے…

"I want to write a novel about silence. The things…

"I want to write a novel about silence. The things people don’t say." • Virginia Woolf میں خاموشی پر ایک ناول لکھنا چاہتی ہوں،جس میں ایسی چیزوں کا ذکر ہو جو لوگ کہہ نہیں سکتے.... ورجینیا وولف ترجمہ : ذیشان عزیز بشکریہ…

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں اکبر الہ آب…

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں اکبر الہ آبادی دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہرچند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ…

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی ہم تو تمہار…

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے ... رلائے گی مری یاد ان کو مدتوں صاحب کریں گے بزم میں محسوس جب کمی میری ... وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں .... خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں…