ڈیلی آرکائیو

2020-11-23

https://www.facebook.com/785687874915589/posts/1794033250747708/ بشکریہ https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2941897902707390

مودی کے بُت پر بلقیس بانو کی کنکریاں

عارف بہاروزیر اعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جس طرح نریندر مودی اور ان کے بھارت کی عمومی ذہنیت ،متعصبانہ سوچ اور حکمت عملی کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دیے اس سے توقع یہی تھی کہ وہ جواب میں پاکستان اور چین کا تذکرہ

پناہ گاہوں کا قیام: فلاحی ریاست کی طرف ایک اہم قدم – مسرور احمد

اگر آپ کو کبھی کسی فورم پرپاکستان کی حکمران اشرافیہ کے خیالات سننے اور جاننے کا موقع ملا ہو تو ایک بات طے ہے کہ سب کے سب پاکستان کیلئے کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ملیں گے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان آزادی کے تہتر سال بعد بھی مسائل کے…

( غیر مطبوعہ ) آدھی عورت کا دکھ دنیا والو ! …

( غیر مطبوعہ ) آدھی عورت کا دکھ دنیا والو ! تم اقلیما سے واقف ہو وه اقلیما جس کی طلب میں ریت نے پہلا خون پیا تھا دنیا والو! تم اقلیما کے عاشق ہو دنیا والو! میں اقلیما کی ماں جائی جس کو تمهاری ناقدری نے ریت میں زنده گاڑ…

اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی …

اب دل بھی دُکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی کر دیتا ہے بے…

مجاز مرسل کی حد کہاں ہے (نظم اور اس پر ناصر عباس نیّر کا تحریر کردہ مضمون)

SHOPPINGہزاروں، لاکھوں ہی سیڑھیاں ہیںنشیب میں سب سے نچلی سیڑھی پہ میں کھڑا ہوںتھکا ہوا، بے امان، درماندہ، بے سہارامگر ارادے میں سر بکف، ولولے میں پا مرد، دھُن کا پکایہ عزم بالجزم ہے، جنوں ہے، کہ بے خودی ہےیہ میں نہیں جانتا، مگر…

پاکستان کی قدر کریں | Khabrain Group Pakistan

لبنیٰ مقبول14 اگست 1947ءکو دنیا کے نقشے پر ایک نئی شناخت کے ساتھ منصہ شہود پر آنے والی اسلامی ریاست، پاکستان، کوئی معمولی ریاست نہیں تھی۔ یہ وہ ریاست تھی جو بظاہر کوئی جنگ لڑے بغیر قائداعظم کی سیاسی بصیرت پر حاصل کی گئی تھی۔

جو کچھ تمہارا ہے وہ ایک دن دے دیا جائے گا. اسلئے آ…

جو کچھ تمہارا ہے وہ ایک دن دے دیا جائے گا. اسلئے آج ہی دے ڈالو تا کہ دینے کی یہ رت تمہارے نام ہو بجز تمہارے ورثا کے. تم اکثر کہتے ہو "میں دونگا مگر صرف مستحق کو". تمہارے باغ کے درخت ایسا نہیں کہتے اور نہ ہی تمہارے سبزہ زاروں میں…

اِس توقّع پہ کُھلا رکھنا گریباں اپنا جانے کب آن …

اِس توقّع پہ کُھلا رکھنا گریباں اپنا جانے کب آن ملے جانِ بہاراں اپنا لمحے لمحے کی رفاقت تھی کبھی وجہِ نشاط موسمِ ہجر ہوا اب سر و ساماں اپنا نِت نئے خواب دِکھاتا ہے اُجالوں کے لئے وہ کہ ہے دشمنِ جاں، دشمنِ ایماں اپنا نکہتِ گُل ہی نہیں،…