ڈیلی آرکائیو

2020-11-24

کہت کبیر ( دوہے) چلتی چکی دیکھ کر ، دِیا کبیرا ر…

کہت کبیر ( دوہے) چلتی چکی دیکھ کر ، دِیا کبیرا روئے دوئی پٹن کے بیچ میں ، ثابت بچا نہ کوئے ( دو پٹ بھیتر آئی کے ' ثابت بچا نہ کوئے ) بُرا جو دیکھن میں چلا ، بُرا نہ مِلیا کوئے جو مَن کھوجا اپنا ، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے کبیرا کھڑا…

( غیر مطبوعہ ) مجھے تلاش تھی جس کی ' وہی کبھ…

( غیر مطبوعہ ) مجھے تلاش تھی جس کی ' وہی کبھی نہ مِلی ہر ایک چیز مِلی ' ایک زندگی نہ مِلی تِری تلاش میں پیروں میں پڑ گئے چھالے مگر یہ منزلِ مقصود تو کبھی نہ مِلی خوشی سے دوستی میری بھی ہے ' مگر اک دن خفا ہوئی وہ کچھ ایسے کی…

( غیر مطبوعہ ) جو کاغذوں پہ بہت آب جُو نکالتے ہیں…

( غیر مطبوعہ ) جو کاغذوں پہ بہت آب جُو نکالتے ہیں وپ پتّھروں کے بدن کا لہو نکالتے ہیں عجیب چار گرِ شہرِ امن ہیں موجود جو زخم ِ نو بھی بَہ نام ِ رفو نکالتے ہیں ہمارے شہر میں فرہاد سے بڑے کچھ لوگ سراب زاروں سے تابِ نمو نکالتے ہیں وصیّتِ غم…

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بو…

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا .... پروین شاکر کا یومِ پیدائش November 24, 1952 پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ…

(ابنِ انشا) فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی…

(ابنِ انشا) فقیر بن کر تم اُن کے در پر ہزار دھونی رما کے بیٹھو جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے، جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو اے اُن کی محفل میں آنے والو، اے سود و سودا بتانے والو جو اُن کی محفل میں آکے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو بہت جتاتے…

میں جیتا ہوں اور خود کو مسلسل زندہ رہنے دیتا ہوں ت…

میں جیتا ہوں اور خود کو مسلسل زندہ رہنے دیتا ہوں تاکہ بورخیس اپنی تخلیقات کی تدبیر کر سکے اور یہ تخلیقات مجھے جواز دے سکیں۔۔ میں تھوڑا تھوڑا کر کے سب کچھ اس کے سپرد کیے جا رہا ہوں، اگر چہ میں اس کے ناخوب طریق سے خوب واقف ہوں کہ وہ چیزوں…

تیری یاد وردِ زباں ہوئی تو عجیب رنگ دکھا گئی کبھی…

تیری یاد وردِ زباں ہوئی تو عجیب رنگ دکھا گئی کبھی اشک آنکھوں میں آگئے کبھی لہر دل میں سما گئی یہ جو ایک شب کا حجاب ہے اسے درمیان سے ہٹا کبھی کہ طلوع ِصبح کی آرزو میری کتنی نیندیں اڑا گئی میرے ذوق ِسجدہ کے سامنے میرا کوئی غم نہ ٹھہر سکا…

گمراہ کہہ کے پہلے تو مجھ سے خفا ہوئے آخر وہ میرے …

گمراہ کہہ کے پہلے تو مجھ سے خفا ہوئے آخر وہ میرے نقشِ قدم پر فدا ہوئے اب تک تو زندگی سے تعارف نہ تھا کوئی تم سے ملے تو زیست سے بھی آشنا ہوئے ایسا نہیں کہ دل ہی مقابل نہیں رہا تِیرِ نگاہِ ناز بھی اکثر خطا ہوئے میری نظر نے تم کو جمال…