ڈیلی آرکائیو

2020-11-27

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے تم تو آئے او…

بھولے افسانے وفا کے یاد دلواتے ہوئے تم تو آئے اور دل کی آگ بھڑکاتے ہوئے موجِ مے بل کھا گئی،گل کو جماہی آ گئی زلف کو دیکھا جو اس عارض پہ لہراتے ہوئے بے مروت!! یاد کر لے، اب تو مدت ہو گئی تیری باتوں سے دلِ مضطر کو بہلاتے ہوئے نیند سے…

جب وہ شادی کے قافلے کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئے تو اس …

جب وہ شادی کے قافلے کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئے تو اس " مقدس گولی " کا ذکر کرنے لگے جو قانون کے مطابق دلہن کے گھر والے دولہا کو دیتے تھے، تاکہ اگر اس کی بیوی بے وفا ثابت ہو تو وہ اس سے اسے قتل کر سکتا ہے، اسے یہاں تک کہتے کہ، " خدا تمہارے…

یہاں ظلم بندوں پہ جب ہو رہا تھا وہ کیوں چُپ رہا م…

یہاں ظلم بندوں پہ جب ہو رہا تھا وہ کیوں چُپ رہا مجھے پو چھنا ہے کہ وہ تو خُداتھا وہ کیوں چُپ رہا فلک تک نہ پہنچا اگر بے نواوں کا نالہ کوئی یہیں ایک طوفانِ آب و ہوا تھا وہ کیوں چپ رہا جو کمزور تھے اُن میں ہمت نہیں تھی کہ وہ بولتے مگر روز…

( غیر مطبوعہ ) ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری …

( غیر مطبوعہ ) ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری حیاتِ حلقہءِ احباب مختصر ٹھہری جنوں کی کار گزاری پہ حرف آیا ہے کہ بور بور ریاضت بھی بے ثمر ٹھہری برنگِ گُل مَیں رہا تازگی سے ہم رشتہ مرے مزاج کی خوشبو نگر نگر ٹھہری وہ جس نے لفظوں کی…

( غیر مطبوعہ ) حرام ہو کہ جو دیکھا ہو اُس نگاہ کا…

( غیر مطبوعہ ) حرام ہو کہ جو دیکھا ہو اُس نگاہ کا مُنہہ سو دیدنی نہ ہو کیسے دلِ تباہ کا منہہ جنابِ غیب سے مِلتا نہ حُکم ِ خیر اگر کبھی دیکھتا مَیں حضرتِ گناہ کا منہہ جب اُس کے آنے کی امُید بھی نہ آئی ہو تو اُٹھ کے دیکھے گی کس منہہ سے آنکھ…

کشمیری کلاسیکی موسیقی : ایک تعارف – یاسر اقبال

وادی ٔکشمیر اپنے فطری حسن سے مالا مال ہے۔ سرزمینِ کشمیر کا یہ حسن کشمیری ادبیات و فنون میں جابجا نظر آتا ہے۔ خطہ ٔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر، سرسبزوشاداب پہاڑوں، نقرئی جھیلوں، بلندو بالا اشجار اور بلندیوں سے گرتے ہوئے آبشاروں کی وجہ سے…

خلجان۔۔مختار پارس | مکالمہ

SHOPPINGپسِ دیوارِ دل ایک ہنگامہ لگا رہتا ہے؛ جیسے کسی پابندِ سلاسل کی شوریدہ سری ہے یا پھر جیسے کسی نے بڑھتے ہوۓ چشموں کو روک لیا ہو۔ دیواروں سے سر ٹکرانا بھی ایک اظہارِ راۓ ہے کہ آنکھوں کی بھی زبان ہوتی…

شفیق خلشؔ کہو تو ہم سے، کہ آخر ہمارے کون ہو تم د…

شفیق خلشؔ کہو تو ہم سے، کہ آخر ہمارے کون ہو تم دل و دماغ ہیں تابع تمھارے، کون ہو تم جو آکے بیٹھ گئے ہو مکین و مالک سا دل و جگر میں محبت اُتارے، کون ہو تم خیال و خواب میں خوش کن جمالِ خُوب لیے بسے ہو زیست کے بن کر سہارے کون ہو تم تمھاری…