ڈیلی آرکائیو

2020-11-29

( غیر مطبوعہ ) دل اسیرِ زلفِِ جاناں ہے ہنوز یاد…

( غیر مطبوعہ ) دل اسیرِ زلفِِ جاناں ہے ہنوز یاد اُس کی دل میں مہماں ہے ہنوز اور بھی ہیں چاہنے والے مرے دل مگر اس کا ہی خواہاں ہے ہنوز یاد ہے اُس شوخ کی اک اک ادا ہر سخن کانوں میں رقصاں ہے ہنوز جگمگائی ہیں مری تنہائیاں یاد اُس…

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے جس طرف سے وہ …

غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائے جس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائے ہر نفس حشر بداماں ہے جنونِ غم میں جب کس طرح اہلِ محبّت کو قرار آ جائے؟ وہ کوئی جام پلا دیں تو نہ جانے کیا ہو؟ جن کے دیکھے ہی سے آنکھوں میں خمار آ جائے غیر ہی سے…

گھاتک(THE SNIPER)ایک فضائی مسافت کی داستان۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPINGنیویارک ۔امریکہ کے جے ایف کے ائیرپورٹ پر کاؤنٹر کلرک من پریت کور، ہمارے کاغذات کی پڑتال کرتی تھی ۔ عملے کا ایک غول دور کھلکھلاتا گزرا تو ہم نے اسے فضائی میزبانوں کی پچھلی قطار میں کولہے گھماتے جہاز کی طرف جاتا دیکھا۔یہ وہ…

( غیر مطبوعہ ) کیا تم کو بتاؤں میں کہ کیا ہے …

( غیر مطبوعہ ) کیا تم کو بتاؤں میں کہ کیا ہے مِرے دل میں میں آشک فشاں غم کا دیا ہے مِرے دل میں تاریکیِ شب مجھ کو ڈرا بھی نہیں سکتی ہر ایک نفس خوف خدا ہے میِرے دل میں میں دیکھتا رہتا ہوں پسِ تشنہ لبی بھی حَسنین کا غم سب سے جدا…

اس واحد زبان میں جو وہ جانتی تھیں، تمام اشیاء کی ج…

اس واحد زبان میں جو وہ جانتی تھیں، تمام اشیاء کی جنس مقرر ہے-صرف جاندار ہی نہیں بلکہ تمام اشیاء کی، قالین، کپڑے، کتابیں،، قلم، آلات َموسیقی -ہر شے یا تو مذکر ہے یا مونث، مرد ہے یا عورت ہر شے، ان کے اپنے بچے کے سوا، بے شک انھیں معلوم تھا…

ذرا سوچیں یہ واقع آج کے دور میں ہوا ہوتا تو کیا ہو…

ذرا سوچیں یہ واقع آج کے دور میں ہوا ہوتا تو کیا ہوتا۔ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ “ﯾﮧ ﻻﮨﻮﺭ ﮨﮯ” ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﺍﻟﺤﺴﻦ ﻧﻐﻤﯽ لکھتے ﮨﯿﮟ “ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﺳﮯ ﺣﻤﺪ ﻭ ﻧﻌﺖ، ﮐﻼﻡ ﺍﻗﺒﺎﻝ…

پریم چند کا مکمل کام ”کلیات پریم چند“ کے نام سے 24…

پریم چند کا مکمل کام ”کلیات پریم چند“ کے نام سے 24 جلدوں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے سن 2000 میں شائع کیا۔ جس کی تفصیل اور pdf کے لنک نیچے دئیے گئے ہیں۔ ناول: جلد 1 تا 8 افسانے: جلد 9 تا 14 ڈرامے: جلد 15 اور 16 خطوط: جلد…

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب کہیں سایہ مرا پڑا صاحب …

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب کہیں سایہ مرا پڑا صاحب ہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحب غیر اور تم بھلے بھلا صاحب کیوں الجھتے ہو جنبش لب سے خیر ہے میں نے کیا کہا صاحب؟ کیوں لگے دینے خطِّ آزادی کچھ گنہ بھی غلام کا صاحب ہائے ری چھیڑ رات سن سن کر حال میرا…