ڈیلی آرکائیو

2020-12-06

( غیر مطبوعہ ) کیســـــــا عجیب درد ہے دل میں&#03…

( غیر مطبوعہ ) کیســـــــا عجیب درد ہے دل میں' نہ پوچھیے موسِـم بھی ہائے سرد ہے دل میں' نہ پوچھیے یوں تو ہزاروں رنگ ہیں، فطرت کے جا بجا لیکن جو سَــیلِ زرد ہے دل میں ' نہ پوچھیے عکــسِ جمــــــــالِ یار ہی دھندلا…

5 دسمبر 1913ء ابو الحسن ندوی کی پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

5 دسمبر 1913ء ابو الحسن ندوی کی پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیدائش: 5 دسمبر 1913ء وفات: 31 دسمبر 1999ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو الحسن علی حسنی ندوی مشہور بہ علی میاں ایک بھارتی عالم دین، مشہور کتاب انسانی دنیا پر مسلمانوں…

( غیر مطبوعہ ) مرے گمان کو بے اعتبار کرتے ہوئے …

( غیر مطبوعہ ) مرے گمان کو بے اعتبار کرتے ہوئے وہ ہنس رہا تھا مجھے بے وقار کرتے ہوئے یہ بندوبست کہاں دیکھنے کی خواہش تھی جھلس گئے ہیں نمو اختیار کرتے ہوئے ہمارے ساتھ نہیں تھے سراہنے والے کہ توڑ پھوڑ بھی تھی پاے دار کرتے ہوئے…

آسا ۔۔ مختار پارس | مکالمہ

SHOPPINGسایہ وہیں ہوتا ہے جہاں کوئی کہیں ہوتا ہے ۔ عکس گمراہ کر سکتے ہیں مگر جھوٹ نہیں کہتے۔ سچ اور جھوٹ کا پرتو ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دیکھنے والی آنکھ پر منحصر ہے کہ سائے کے ماخذ تک پہنچ سکتے ہیں…

کفن کی جیب کہاں ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

SHOPPINGیہ تین دن بہت بھاری ہیں مجھ پہ جانتا ہوں مجھے یہ علم ہے، تم اپنے اختیارات کے تحت مری حیات کا اعمال نامہ پرکھو گے برائیوں کا، گناہوں کا جائزہ لو گے میں جانتا ہوں فرشتو کہ مجھ پہ لازم ہے تمہیں بتاؤں کہ اعمال میرے کیسے تھے…

سہراب سپہری ایران کے معاصر فارسی شعراء میں کئی لحا…

سہراب سپہری ایران کے معاصر فارسی شعراء میں کئی لحاظ سے ممتاز ہے۔ وہ ساتھ ہی فلسفی اور ممتاز نقاش بھی تھا۔ مطالعہ اور سفر اس کا شوق تھا۔ ہندوستان کا سفر بھی کیا اور بنارس، ساحل دریائے گنگا اور تاج محل کا ذکر اپنی نظموں میں بڑے والہانہ…

( غیر مطبوعہ ) (ایک نثری نظم) پھر قصبے پہ گھٹا…

( غیر مطبوعہ ) (ایک نثری نظم) پھر قصبے پہ گھٹا چھا جاتی ہے ننگی ٹہنیوں سے رِس رس کر بارش پھر ہوتی ہے پھر گھنے درختوں میں بلندی سے نظر آتی راستے کی لکیر مٹ جاتی ہے مٹی دھل جاتی ہے مگر کہیں کہیں گیلی زمین سے خشکی سر اٹھاتی ہے تو…

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ اسرار الحق مجاز برب…

برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ اسرار الحق مجاز برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ ہاں میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھ ملنے ہیں ابھی مجھ کو…