ڈیلی آرکائیو

2020-12-31

جعفر شیرازی جعفر شیرازی یکم جنوری ۱۹۲۰ء…

جعفر شیرازی جعفر شیرازی یکم جنوری ۱۹۲۰ء کو اکبر(ضلع اوکاڑہ) میں پیدا ہوئے۔زراعت میں گریجویشن کرنے کے بعد محکمہ زراعت سے منسلک ہو گئے اور وہیں سے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔جعفر شیرازی نے ۱۹۳۶ء میں لکھنے کا آغاز کیا۔…

اے سالِ گذشتہ ! سن تو ذرا کچھ کام ادھورے باقی ہی…

اے سالِ گذشتہ ! سن تو ذرا کچھ کام ادھورے باقی ہیں کچھ دوست پرانے بچھڑ گئے اور ساتھ ادھورے باقی ہیں کچھ بوجھل بوجھل یادیں ہیں جذبات ادھورے باقی ہیں کچھ غیر مکمل تحریریں صفحات ادھورے باقی ہیں کچھ بکھری بکھری تصویریں لمحات ادھورے باقی ہیں…

مادری زبان سے محبت کی ایک لازوال کہانی میرا داغست…

مادری زبان سے محبت کی ایک لازوال کہانی میرا داغستان رسول حمزہ توف رسُول حمزہ تَوف (روس کے عالمی شہرت یافتہ مصنف) ”میرا داغستان“ میں لکھتے ھیں کہ ، ”میری مادری زبان ”آوار“ ھے اگرچہ میں رُوسی میں شاعری کرتا ھُوں اور ھمارے ھاں ایک گالی ایسی…

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے…

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساھو کار بنے ہے کوئی جو دیون ہار بنے کچھ سال مہینے لوگو پر سود بیاج کے دن لوگو ہاں اپنی جان کے خزانے سے ہاں عمر کے توشہ خانے سے کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں کیا کوئی بھی دیون ہار…

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے صبح کی رنگت دھانی ب…

ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے صبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھا دریا میں طُغیانی بھی ہو سکتی ہے نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گُلاب صُورت ِحال پرانی بھی ہو سکتی ہے ہر پَل جو دِل کو دہلائے رکھتی ہے کُچھ بھی…

Every child is an artist. The problem is how to re…

Every child is an artist. The problem is how to remain an artist once we grow up. Pablo Picasso ہر بچہ آرٹسٹ ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے ایک بار جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں ،ایک آرٹسٹ کیسے رہا جائے ۔ پابلو پکاسو ( painting "The old fisherman' was…

جو چشمِ تر کو ہی کافی خیال کرتے ہیں وہ عرضِ حال ا…

جو چشمِ تر کو ہی کافی خیال کرتے ہیں وہ عرضِ حال اضافی خیال کرتے ہیں کوئی بھی کام جو ثابت نہیں محمدﷺ سے اسے وفا کے منافی خیال کرتے ہیں یہ پیروی ہے کہ ہم بھوک رکھ کے کھاتے ہوئے نبیﷺ کی بات کو شافی خیال کرتے ہیں درِ حضورﷺ پہ مجھ سے یقین والے…

مے کشی کا لطف تنہائی میں کیا، کچھ بھی نہیں یار پ…

مے کشی کا لطف تنہائی میں کیا، کچھ بھی نہیں یار پہلو میں نہ ہو جب تک، مزہ کچھ بھی نہیں تم رہو پہلو میں میرے، میں تمہیں دیکھا کروں حسرتِ دل اے صنم! اس کے سوا کچھ بھی نہیں حضرتِ دل کی بدولت میری رسوائی ہوئی اس کا شکوہ آپ سے اے…