ڈیلی آرکائیو

2021-01-12

سوفی کی دنیا از جوسٹین گارڈر اردو آڈیو بک سوفی …

سوفی کی دنیا از جوسٹین گارڈر اردو آڈیو بک سوفی کا ہمیشہ یہی خیال رہا تھا کہ باغ اپنی دنیا آپ ہے۔ جب کبھی وہ انجیل میں باغ عدن کا حوالہ سنتی، اسے اپنا خفیہ ٹھکانہ یاد آجاتا جہاں وہ مزے سے بیٹھی اپنی ننھی منی جنت کا جائزہ لے رہی ہوتی۔دنیا…

اُن لبوں نے نہ کی مَسیِحائی ہَم نے سَو سَو طرح سے…

اُن لبوں نے نہ کی مَسیِحائی ہَم نے سَو سَو طرح سے مَر دیکھا میر دردؔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک زمین احمد فرازؔ محسنؔ نقوی ۔۔۔۔۔ فرازؔ اِسی خیال میں تاروں کو رات بھر دیکُھوں کہ تُجھ کو صُبحِ قِیامَت سے پَیشتر دیکُھوں اُس اِک چراغ کی لَو چُبھ رہی…

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ میرا شباب بھ…

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ میرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہرکے ساتھ وہ کہہ رہا ہے کہ لاؤں گا گھر میں سوتن کو پلا رہا ہے وہ آب_حیات زہر کے ساتھ میں اس لئے یہاں آتی ہوں تم جو رہتے ہو مجھے ہے اتنا تعلق تمہارے شہر کے ساتھ بزار جانے کی…

بحوالہ کتاب: نوبیل خطبات مترجم : یاسر جواد ~ہی…

بحوالہ کتاب: نوبیل خطبات مترجم : یاسر جواد ~ہیرتا موہلر Herta Muller ~ کیا تمہارے پاس رومال ہے؟ہر صبح کو جب میں گلی میں جانے لگتی تو میری ماں گھر کے دروازے میں کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کرتی میرے پاس رومال نہیں ہوتا تھا اور اس وجہ سے میں…

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہِ نارسا بھی نہیں یہ کیا ہوا…

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہِ نارسا بھی نہیں یہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیں ستم ہے ، اب بھی امیدِ وفا پہ جیتا ہے وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں نگاہِ ناز ، عبارت ہے زندگی جس سے شریکِ درد تو کیا ، درد آشنا بھی نہیں وہ کاروانِ…

بحوالہ کتاب: نوبیل خطبات مترجم :یاسر جواد ~موی…

بحوالہ کتاب: نوبیل خطبات مترجم :یاسر جواد ~مویان Mo Yan ~ میں پیدائشی طور پر بد صورت تھا گاؤں والے اکثر میری شکل پر ہنستے تھے اور سکول میں لڑکوں نے کبھی کبھی مجھے اسی وجہ سے زدوکوب کیا میں روتے ہوئے گھر واپس آتا جہاں ماں کہتی تم…

سِلسِلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اِتنے تو م…

سِلسِلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اِتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے​ شِکوہء ظُلمتِ شب سے تو کہیں‌ بہتر تھا اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے​ کِتنا آساں تھا تِرے ہِجر میں مرنا جاناں پِھر بھی اِک عُمر لگی جان سے جاتے جاتے​ جشنِ مقتل ہی…

یہ عالم شوق کا، دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا، دی…

یہ عالم شوق کا، دیکھا نہ جائے وہ بت ہے یا خدا، دیکھا نہ جائے! یہ میرے ساتھ کیسی روشنی ہے کہ مجھ سے راستہ، دیکھا نہ جائے! یہ کن نظروں سے تُوں نے آج دیکھا کہ تیرا دیکھنا، دیکھا نہ جائے! ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا یہ منظر بارہا، دیکھا نہ…