ڈیلی آرکائیو

2021-02-25

پرندہ تو بس پرندہ تھاشاعرہ: فروغ فرخ زاد (ایران)مت…

پرندہ تو بس پرندہ تھاشاعرہ: فروغ فرخ زاد (ایران)مترجم : احمد شہریار (کوئٹہ)*پرندے نے کہا: "کیا خوشبو ہے! کیا روشنی ہے!آہا!موسم بہار آگیا ہے!اب میںاپنی جوڑی کی تلاش میں نکلوں گا!"پردہ ڈیوڑھی سے اُاڑا،… Moreایک پیغام کی ماننداُڑا اور چلا…

رہنے کو کیا برا ہے جو جنت میں گھر ملے – مرزا عزیز …

رہنے کو کیا برا ہے جو جنت میں گھر ملے - مرزا عزیز بیگ سہارنپوری (مخمس بر غزلِ غالب) .... رہنے کو کیا برا ہے جو جنت میں گھر ملے​ پھر تو جناں جناں ہے وہاں تو اگر ملے​ آرام دل کو جلوۂ رخ دیکھ کر ملے​ "تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے​…

تامل ٹائیگرز کے دیس میں (چوتھا حصّہ)۔۔خالد ولید سیفی

ہم لابی میں داخل ہوئے۔ بالکل سامنے کاؤنٹر تھا، جس پر 4 یا پانچ مرد و خواتین منیجرز بیٹھے ہوئے تھے۔ کاؤنٹر پر کمپیوٹرز کی قطار تھی، لابی کے بالکل وسط میں ایک بڑا پیانو رکھا تھا۔ “سنگِ مرمر پر چلوگے تو پھسل جاؤگے”، جیسا فرش تھا۔ ہر طرف…

Translation in Urdu poem "If” written by "Rudyard …

Translation in Urdu poem "If" written by "Rudyard Kipling" مترجم : عرشی صدیقی انسان تب تک ادھورا ہے جب تک اس میں وہ کمال کی خوبیاں پیدا نہ ہوں، جو کہ ناساز وقت میں وقتاً فوقتاً ان خوبیوں کا مظاہرہ بزات خود کے لۓکرے ۔۔' اگر' جب لوگ اس پر…

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا۔۔محمد اقبال دیوان

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے”RefaEli-Bar”اسرائیل کی ٹاپ موسٹ اور دنیا میں سپر ماڈل مانی جاتی تھیں۔چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ہم سے تو غلط انگریزی بولنے پر میرا گرفتار نہیں ہوتی، مگر اسرائیل کی  ایف…

غزل پلس(12)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مجھ کو قلم، فرہاد کو تیشہ ، رانجھے کو کشکول دیاعشق نے دل والوں کو جو بھی کام دیا انمول دیا سیپ سیپ سے پوچھ پوچھ کر ، ہم نے آپ کو ڈھونڈا تھاآپ نے تو ، اے موتیوں والے، ہم کو خاک میں رول دیا سوچ کی میری…

الفاظ کے ذریعے تسخیرِ عالمنزار قبانیجس وقت میں نے …

الفاظ کے ذریعے تسخیرِ عالمنزار قبانیجس وقت میں نے شعر لکھنے شروع کیے اسی وقت سے آگ کی چوری میرا مشغلہ رہی ہے۔ میں نے پرومیتھیوس کی طرح آسمانی آگ نہیں چُرائی۔ اس لیے کہ آسمان میرے لیے کبھی اہم نہیں رہا۔ مجھے… More تو ارضی آگ سے دلچسپی…

غالب کی پسندیدہ غزل نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُ…

غالب کی پسندیدہ غزل نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے کیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے میں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دل اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائے کاش! یُوں بھی…