ڈیلی آرکائیو

2021-03-04

ایک دن موسیٰ نبی اللہ پہاڑوں میں اکیلے چل رہے تھے …

ایک دن موسیٰ نبی اللہ پہاڑوں میں اکیلے چل رہے تھے جب انہوں نے دور ایک چرواہے کو دیکھا ۔ وہ اپنے گھٹنوں پر جھکا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیئے محو مناجات تھا۔ موسیٰ یہ دیکھ کر بہت شاد ہوئے لیکن جب وہ قریب پہنچے تو چرواہے کی…

ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے بہت ممک…

ابھی تو دل میں ہلکی سی خلش محسوس ہوتی ہے بہت ممکن ہے کل اس کا محبت نام ہو جائے شعری بھوپالی ... غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے وہی نالہ وہی نغمہ بس اک تفریق لفظی ہے قفس کو منتشر کر دو…

میرا جسم۔۔۔۔ امپورٹڈ نعرہ، دیسی غرارہ – سحرش عثمان

رسم دنیا موقع و دستور تو تھا ہی یہ جو دونوں اطراف کے لوگ خون آشام بلاؤں کی مانند ایک دوجے پر حملہ فرما رہے ہیں اس نے موقعے کو دو آتشہ کردیا۔ اس ہاہاکار نے آنسہ کو بھی خواب غفلت سے جگا دیا اور ہم نے بھی اپنی رائے بتانے کا فیصلہ کرلیا…

~ میں یوسف ہوں ، یا پدر ! ~ میں یوسف ہوں، یا پدر۔…

~ میں یوسف ہوں ، یا پدر ! ~ میں یوسف ہوں، یا پدر۔ یا پدر ، اپنے بھائیوں کو محبوب ہوں اور نہ ہی اپنی صفوں میں مُجھے قبول کرتے ہیں۔ وہ مجھ پہ حملہ آور ہیں پتھر اور لفظ مُجھ پہ برساتے ہیں۔ وہ مری موت کے مُنتظر… More ہیں کہ مرا قصیدہ کہہ…

حصارِ ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں تری صفات…

حصارِ ذات سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں تری صفات کو سمجھوں تو تجھ سے بات کروں تو کوہسار میں، وادی میں، دشت و صحرا میں میں تجھ کو ڈھونڈ نکالوں تو تجھ سے بات کروں تو شاخ شاخ پہ بیٹھا ہے پھول کی صورت میں خار خار سے الجھوں تو تجھ سے…

” میں ایک پرہجوم شہر میں گزرا ” میں ایک مرتبہ ایک…

" میں ایک پرہجوم شہر میں گزرا " میں ایک مرتبہ ایک پرہجوم شہر میں سے گزرا تھا۔۔۔ اپنی یاداشت پر نقش کرتا اسکا طرز تعمیر، رسوم، روایات اور محفلیں۔۔۔ تاکہ، مستقبل میں انکا حوالہ دے سکوں لیکن اب، اس شہر کی یاداشت… More میں اور کچھ باقی نہیں…

ان کے کرم سے رکھ امید، ان کی عطا سے پیار کر اے د…

ان کے کرم سے رکھ امید، ان کی عطا سے پیار کر اے دلِ مبتلائے غم ! غم کو بھی خوشگوار کر حُسنِ یقینِ عاشقی اتنا تو پائیدار کر خود پر بھی اعتماد رکھ ، ان پر بھی اعتبار کر دل میں جو میرے زخم میں ان کا نہ اب شمار کر سینۂ…

"میرے جسم کے نام۔۔۔ خیمے کی کیل جو صحرا میں مصلو…

"میرے جسم کے نام۔۔۔ خیمے کی کیل جو صحرا میں مصلوب ہو گئی" میرال طحاوی کا یہ ناول "الخباء" یا "خیمہ" یقیناً ایک شاندار تحریر ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے ایک لمحے اگر آپکو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اس ناول کی کہانی کو سمجھ… More رہے ہیں تو دوسرے ہی…