ڈیلی آرکائیو

2021-04-01

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں بسمل الہ آب…

ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں بسمل الہ آبادی ان سے کہہ دو کہ علاج دل شیدا نہ کریں یہی اچھا ہے کہ بیمار کو اچھا نہ کریں کیا کہا پھر تو کہو ہم کوئی شکوا نہ کریں چپ رہیں ظلم سہیں ظلم کا چرچا نہ کریں یہ تماشا تو کریں رخ سے اٹھا دیں وہ…

"۔۔۔۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میں ایک ایسی کتاب تحریر …

"۔۔۔۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میں ایک ایسی کتاب تحریر کروں جو امریکی قارئین کے سامنے فلسطینی مؤقف کی ایک ایسی تصویر پیش کرے جو ایک وسیع اکثریت کے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہو۔" (ایڈورڈ سعید، ۱۹۷۹ء)*ایڈورڈ سعید نے استعمار اور مستشرقیت کے…

وہ ہنستی آنکھیں حسیں تبسم دمکتا چہرہ کتاب جیسا …

وہ ہنستی آنکھیں حسیں تبسم دمکتا چہرہ کتاب جیسا دراز قامت ہے، سرو آسا ہے، رنگ کھلتے گلاب جیسا وہ دھیمے لہجے کے زیر و بم میں پھوار جیسی حسین رم جھم ہے گفتگو میں بہم تسلسل، رواں رواں سا چناب جیسا کچھ اس کے عارض کی دل فریبی،…

وہ موسم بے خودی کے تھے جو موسم ہم گزار آئے کہ جب …

وہ موسم بے خودی کے تھے جو موسم ہم گزار آئے کہ جب چاہا تمہارے نام سے خود کو پکار آئے سفر کی سب اذیت منتظر آنکھیں اگر لے لیں پروں میں طاقتِ پرواز پھر بے اختیار آئے میں تشنہ لب زمینوں پر کہاں تک چشمِ تر رکھتی سفر میں زندگی کے ہر قدم پر…

درست شروعات۔ "استاد! بظاہر میں دوسرے شاگردوں جیس…

درست شروعات۔ "استاد! بظاہر میں دوسرے شاگردوں جیسا ہوں لیکن ایک فرق کے ساتھ باقی سب آپ کی بات سمجھ لیتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرلیتے ہیں، میں ایسا نہیں کرپاتا۔ آپ فرماتے ہیں: 'اپنے وجود کوپرسکون رکھو، کوشش کرو کہ تمہاری زندگی اپنے مرکز پر…

ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم)کے میرے نام منتخب خطوط(1)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​اپنے سینئر دوست مرحوم و مغفور وزیر آغا سے تیس برسوں میں موصول ہوئے ایک سو کے لگ بھگ ​خطوط کی لڑی۔ (ایک) آپ نے تحریر کیا ہے کہ آپ الفاظ کو’’ سوچتے‘‘ نہیں ، ’’دیکھتے‘‘ ہیں۔’’دیکھنا‘‘، شاعر کے لیے شاید اس کی تیسری آنکھ کا عمل ہے جو…

خوشی کو سوچنا مت یہ ہے کلیوں کا کھلنا تمھارے جسم…

خوشی کو سوچنا مت یہ ہے کلیوں کا کھلنا تمھارے جسم کی گلیوں کے اندر یہ ہے ہڈیوں کا مئی، اور نظروں کا اپریل ہو جانا خوشی تو کوئی حقیقت نہیں ہے نہ کوئی چیز نہ کوئی جگہ ہے خوشی تو اپنا گھر خود بنائے پگھلتی جائے اور خالی کر جائے... More…

سعدیہ بشیر سالگرہ مبارک April 01, 19xx وہ کمندیں…

سعدیہ بشیر سالگرہ مبارک April 01, 19xx وہ کمندیں ڈالتا پھرتا ہے مہر و ماہ پر کوئی جیسے خاک ہو کے رہ گیا اس راہ پر صبر سے جو تھام کر رکّھی ہے اپنے ہاتھ میں آنسوؤں کے کتنے دریا وار دوں اس آہ پر اپنے دل کی سلطنت کے راز کھولوں گی کبھی... More…