ڈیلی آرکائیو

2021-04-21

دِہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں! تیرے آبا …

دِہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں! تیرے آبا کی نہیں، تری نہیں میری نہیں! ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ١٦١ ) ....... ( دِہ خُدا ) { دِہ + خُدا } معانی - زمیندار فارسی زبان سے اسم جامد 'دِہ' کے ساتھ فارسی سے اسم جامد 'خدا' لگایا گیا ہے۔ اصل میں…

ایک مصور کا خاکہ(کتاب Van Gogh: The Complete Pain…

ایک مصور کا خاکہ(کتاب Van Gogh: The Complete Paintings پر تبصرہ)تحریر: ثمین امیراردو ترجمہ : رابیل شیخ (لاہور) ونسنٹ وین خوخ، اسے اپنی زندگی میں شہرت اور خوش قسمتی حاصل نہ ہوسکی۔ لیکن اسے ہر دور کے مصوروں میں بہت اہم مقام حاصل رہا ہے۔…

نہ جانے ہار ہے یا جیت کیا ہے غموں پر مسکرانا آ گ…

نہ جانے ہار ہے یا جیت کیا ہے غموں پر مسکرانا آ گیا ہے .. ترقی پسند تحریک سے وابستہ ممتاز نقاد اور معروف شاعر” احتشام حسین “ کا یومِ ولادت 21؍اپریل 1912 نام سید احتشام حسین رضوی، پروفیسر۔۲۱؍اپریل ۱۹۱۲ء کو اترڈیہہ ضلع اعظم گڑھ میں پیدا…

( غیر مطبوعہ ) کبھی تو دے اے نجومی! جواب ، کتنے ہ…

( غیر مطبوعہ ) کبھی تو دے اے نجومی! جواب ، کتنے ہیں مِرے نصیب میں آخر عذاب کتنے ہیں رکھا نہ دل کے دکھوں کا حساب ،کتنے ہیں کبھی گنے نہیں آنکھوں میں خواب کتنے ہیں یہ ہم سے پوچھو کہ صحرا میں ریت کتنی ہے یہ ہم سے پوچھو کہ اس میں سراب کتنے…

اُس قوم کی حالت کس قدر قابلِ رحم ہےزاہدہ حنا آج س…

اُس قوم کی حالت کس قدر قابلِ رحم ہےزاہدہ حناآج سے 90 برس پہلے یہ 10 اپریل 1931 کا دن تھا جب اس نے بوسٹن کے اسپتال میں آخری سانس لی۔ اس کا نام خلیل جبران تھا، اس سے میری ملاقات اس وقت ہوئی جب میں آٹھویں میں پڑھتی تھی اور بہترین نثر…

تاریخ کی عدالت میں۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

زماں کی قید سے مبرا ہونا ابھی ممکن نہیں مگر تخیلات میں اُتر کہ مستقبل کو سوچا جا سکتا ہے. آج سے سُو برس بعد کا مورخ کیا لکھے گا؟ اندازہ لگایا جا سکتا ہے. یہ تحریر اصلاً ہمیں “تاریخ کی عدالت میں” پیش کرنے…

ساقی نامہ ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا …

ساقی نامہ ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے…

( غیــر مطبــوعــہ ) ایکــــ تاریکـــــــ ہوتے سـ…

( غیــر مطبــوعــہ ) ایکــــ تاریکـــــــ ہوتے سـتارے سے اپنا خـــلا بھر رہا ہوں کس لیے خــــود کو خالی کِیـا تھا کبھی اور کیا بھر رہا ہوں! وہ بھی دن تھے یہــاں خـواہشوں کا کئی منزلہ گھر بنا تھا اور اب رنج کی کالی مٹّــی سے دل کا گـــڑھا…

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے زرا نم ہو…

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ... آج 21 اپریل ہے اقبال کو ہم سے بچھڑے تراسی برس ہوچکے ہیں ان تمام سالوں میں ہم نے اقبال پر ہزاروں صفحات لکھ ڈالے ۔ ان کے فلسفۂ خودی ، فلسفۂ زماں و مکاں ، عقل…