ماہانہ آرکائیو

مئی 2021

گیت کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ جو نہیں کہ…

گیت کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ جو نہیں کہا ہے، کبھی تو سمجھ بھی جاؤ ہم بھی تو ہیں تمہارے، دیوانے ہو دیوانے کبھی تو نظر ملاؤ، کبھی تو قریب آؤ ہم نے تم کو دیکھتے ہی دل دیا تم بھی سوچو تم نے ہم سے کیا کیا میرا دل نہ توڑو، کبھی دل سے…

( غیر مطبوعہ ) بلند آہنگ اور پر شور ہو کے گزرے گ…

( غیر مطبوعہ ) بلند آہنگ اور پر شور ہو کے گزرے گمان سے انحراف کا زور ہو کے گزرے بس ایک لمس_ تپش سے بخشی لپک سروں کو تمہارے نغمات سے بس اک پور ہو کے گزرے خراب موسم، کرخت آوازیں، کالے منظر خود اپنے جنگل سے ہم بہت بور ہو کے گزرے وہ جس کی…

میرے رشکِ قمر تُو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا…

میرے رشکِ قمر تُو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیا میرے رشکِ قمر تُو نے پہلی نظر، جب نظر سے ملائی مزا آ گیا برق سی گر گئی، کام ہی کر گئی، آگ ایسی لگائی مزا گیا جام میں گھول کر حُسن کی مستیاں، چاندنی مسکرائی مزا آ گیا چاند کے سائے…

اے جانِ من کیوں ہمارے درمیان ہمیشہ فاصلہ ہے بے شک…

اے جانِ من کیوں ہمارے درمیان ہمیشہ فاصلہ ہے بے شک دوری ناقابلِ معافی جرمِ عظیم ہے اے جانِ من کیوں ہمارے درمیان ہمیشہ سمندر ہی سمندر ہیں ایک سمندر پار کرتا ہوں تو ایک اور سمندر سامنے آجاتا ہے مجھے تعجب ہے! . مصری شاعر: صلاح جاہین مصری…

طاقت و مکالمہ آزادی فلسطین کے نئے ہتھیار۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

فلسطینی مزاحمتی تحریک میرے خیال میں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ماضی میں کی گئی مسلسل غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا جا چکا ہے۔ اہل فلسطین کو یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ انہیں اپنی جنگ خود لڑنی ہے، باہر سے…

شفیق خلشؔ سُنائی جو نہیں دیتی فُغاں، نظر آئے ہو …

شفیق خلشؔ سُنائی جو نہیں دیتی فُغاں، نظر آئے ہو کور چشم کوئی تو، کہاں نظر آئے رَوا قدم ہے ہر اِک اُس پہ اِنتہائی بھی ! مگر یہ تب، کہ ہمیں رازداں نظر آئے چمن سے تب ہی گُل و برگ کی اُمید بندھے جو حاکموں میں کوئی باغباں نظر آئے... More

’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ عشق بلاخیز کی داستان ہے۔ پاگل کرد…

’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ عشق بلاخیز کی داستان ہے۔ پاگل کردینے والا عشق، جو مثبت اقدار کو دبا کر منفی اقدار کو نمایاں کرتا ہے، جو ایسا وحشی جذبہ بن کر سامنے آتا ہے کہ انسانوں کو ان کی سطح سے گرا کر وحشیوں اور جانوروں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔ یہ…

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس…

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں آ جائیں رعبِ غیر میں ہم وہ بشر نہیں کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں اک تو شبِ فراق کے صدمے ہیں جاں گداز اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں کیا کہئے اس طرح…