ڈیلی آرکائیو

2021-06-23

نہ قریب آ نہ تو دور جا یہ جو فاصلہ ہے یہ ٹھیک ہے …

نہ قریب آ نہ تو دور جا یہ جو فاصلہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ گزر حدوں سے، نہ حد بتا، یہی دائرہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ تُو آشنا نہ ہی اجنبی نہ کوئی بدن ہے نہ روح ہی یہی زندگی کا ہے فلسفہ یہ جو فلسفہ ہے یہ ٹھیک ہے یہ ضرورتوں کا ہی رشتہ ہے یہ ضروری رشتہ…

اکیلی اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تم…

اکیلی اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا جانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوں پھر بھی ٹھہرو ذرا سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں میری امی نہیں میرے ابا نہیں میری آپا نہیں میرے ننھے سے…

چوہے دانوں کی مخلوق (ایک غصیلی نظم)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بد صورت، مکروہ چڑیلوںکی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی ؎۱دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتیباہر ایک غصیلی آندھیپتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی ؎۲مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کرزندہ حیوانوں سے ان…