ڈیلی آرکائیو

2021-09-03

نِکہت بَریلوی رَہِ وَفا کے ہر اِک پَیچ و خَم کو ج…

نِکہت بَریلوی رَہِ وَفا کے ہر اِک پَیچ و خَم کو جان لیا جُنوں میں دشت و بَیاباں تمام چھان لیا ہر اِک مقام سے ہم سُرخ رُو گزر آئے قدم قدم پہ محبّت نے اِمتحان لیا گراں ہُوئی تھی غَمِ زندگی کی دُھوپ، مگر کسی کی یاد نے اِک شامیانہ تان…

افغانستان! ماضی کے آئینے میں۔۔محمد وقاص رشید

فرد ہو گھرانہ ،ادارہ یا پھر ایک قوم حال کا سفر ،ماضی کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کے راستے پر جاری رہتا ہے ۔ یہی انسانی ارتقاء کی سادہ ترین تعریف ہے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ تجربات ہمیشہ خوشگوار تو نہیں ہوتے یہ ہمیشہ توقعات کی تکمیل پر…

مرے زائچے کے اجرام۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ جنتری میرے روز و شب کیکہ جس کے برجوں میںزحل و مرّیخ و مشتریزائچے کے اجراماپنا ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیںہر برس مجھ کو یہ بتاتے ہیںقرض کتنا ہنوز باقی ہے، پیر ِ دوراں کاجو چکانا پڑے گا سانسوں کے رہتے رہتےمیں…

گریٹ گیم کا عبرت انگیز اختتام؟۔۔اسلم اعوان

ماضی کی عالمی طاقتوں نے انیسویں صدی میں افغانستان کوگریٹ گیم کا میدان کازار اُس وقت بنایا جب روس کی ملکہ کیتھرائین دی گریٹ نے گوادر کی بندرگاہ تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا،زارِِِ روس کے اِسی پلان کو ناکام بنانے کی خاطر برطانیہ نے…