ڈیلی آرکائیو

2021-09-05

بہت بُرا ہُوں! کسی کا بُرا نہ کر پایا وُہ اس لئے …

بہت بُرا ہُوں! کسی کا بُرا نہ کر پایا وُہ اس لئے کہ کبھی بد دُعا نہ کر پایا رفیع رضا آگ کا پرندہ .. بہت بُرا ہُوں! کسی کا بُرا نہ کر پایا وُہ اس لئے کہ کبھی بد دُعا نہ کر پایا وُہ میرے دل میں رہے میرے دوستوں کی طرح مَیں دُشمنوں سے بھی…

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1954 میں اپنے روبرو ہوں اور …

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1954 میں اپنے روبرو ہوں اور کچھ حیرت زدہ ہوں میں نہ جانے عکس ہوں چہرہ ہوں یا پھر آئنہ ہوں میں مری مجبوریاں دیکھو کہ یکجائی کے پیکر میں کسی بکھرے ہوئے احساس میں سمٹا ہوا ہوں میں مرے اندر کے موسم ہی مجھے تعمیر کرتے ہیں…

خلفشار۔۔خورشید ندیم – مکالمہمکالمہ

طالبان کی کامیابی ہو یا مینارِ پاکستان کاحادثہ‘ہمارا ذہنی خلفشار ظاہر و باہر ہے۔ہمیں امریکہ سے نفرت ہے لیکن ہماری منزلِ مراد بھی امریکہ ہے۔نئی نسل کی سب سے بڑی خواہش امریکی شہریت ہے۔ہمیں طالبان سے محبت…

میرے استاد قید عمر رواں کی سلاخوں کو تھامے ہوئے…

میرے استاد قید عمر رواں کی سلاخوں کو تھامے ہوئے جب کبھی جھانکتا ہوں میں ماضی کی کھڑکی سے اب یاد آتی ہیں مجھ کو وہ پگڈنڈیاں جن پہ بھاگا تھا بچپن کھلے پاؤں دھوپ سے کھلتی برگدی چھاؤں اور مہکتی چہکتی ہوئی دھول ... More

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں …

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں مگر خموش اب جو ہو گئے ہیں عنایتیں ماہ و سال کی ہیں کہاں سے دنیا کو آ گئے ہیں یہ طور اس کے طریق اس کے مظاہرہ سب گریز کا ہے علامتیں سب وصال کی ہیں نظر اٹھاؤ تو ہر طرف ہے بہشتِ حسن…

غلام محمد قاصر کا یومِ پیدائش Sep 04, 1941 شوق ب…

غلام محمد قاصر کا یومِ پیدائش Sep 04, 1941 شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے سرد ہواؤں سے تو تھے…

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے …

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے سفر میں اب کے یہ تم تھے کہ خوش گمانی تھی یہی لگا کہ کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے غلافِ گل میں کبھی چاندنی کے پردے میں سنا ہے بھیس بدل کر بھی وہ نکلتا ہے لکھوں وہ نام تو کاغذ…