رشیدہ۔۔اُسامہ ریاض | مکالمہ

Usama Riaz 2 June 2020ء یہ تحریر 1204 مرتبہ دیکھی گئی۔ رشیدہ سے سارا گاؤں ڈرتا تھا۔ وہ جب بھی اپنا آدھا پھٹا ڈوپٹہ لے کر گھر سے نکلتی سب جلدی جلدی گھروں کی کھڑکیاں بند کر…

مری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی کوئی بہ…

مری زیست پُر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی وہ جو حکم دیں بجا ہے ، مرا ہر سخن خطا ہے انہیں میری رو رعایت کبھی…

جب تک کرونا ہے سیاست کا کھیل بند کریں

پیارے پڑھنے والے ہم سارا دن اپنے کسی نہ کسی ملنے والے دوست یا عزیز کی وفات کا سنتے ہیں اور سوائے یہ کہنے کہ اللہ مغفرت کرے اور کچھ نہیں کرسکتے۔ انسان یہی کہہ سکتا ہے کیونکہ زندگی اور موت کا اختیار صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ ہمارے

اردو قارئین کے لئے ہندی شاعرہ روپم مشر کی ایک اور …

اردو قارئین کے لئے ہندی شاعرہ روپم مشر کی ایک اور نظم پیش ہے ہندی نظم : یہ لڑکیاں بَتُھوا کی طرح اُگی تھیں مُترجّم: آفتاب احمد ، ہندی۔اردو لکچرر ، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک یہ لڑکیاں بَتُھوا کی طرح اُگی تھیں! شاعرہ: روپم مشر جیسے گیہوں…

ابن عربی سے تھوڑی سی شناسائی۔۔سلمیٰ اعوان

اس تحریر کو لکھنے کا محرک حسن نثار کا،16 جون کا کالم ہے۔اُن کے قارئین اُن سے ابنِ عربی کے بارے کچھ جاننے کے خواہش مند تھے۔”ارے“خود سے کہا میں تو اُس عظیم ہستی کے مزار پر حاضری کی سعادت حاصل کیے بیٹھی ہوں۔کیوں نہ اپنے ”مکالمہ“کے…

بیاض ِ عمر کھولی ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سےدھنک کے سارے رنگوں میںمرے موئے قلم نے گُل فشانی سےکئی چہرے بنائے ہیںکئی گُلکاریاں کی ہیںلڑکپن کےشروع ِ نوجوانی کےبیاض ِ عمر کے پہلے ورقسب خوش نمائی کے نمونے ہیںگلابی، ارغوانی، سوسنی،…

سید محمد عباس سریر کابری جسے تو نے سمجھا ہے زندگی…

سید محمد عباس سریر کابری جسے تو نے سمجھا ہے زندگی اسی انقلاب کا نام ہے کبھی دن ہوا کبھی شب ہوئی کبھی صبح ہے کبھی شام ہے تہ خاک بھی دل مبتلا کو کبھی قرار نہ آئے گا ہوں ابھی سے حشر کا منتظر کہ نوید جلوۂ عام ہے کوئی حوصلہ ہے نہ مدعا کوئی…

ڈاکٹر مغیث اے شیخ بھی ہم سے بچھڑ گئے….

میاںغفاراحمدمیرے انتہائی محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے۔ 1986ءمیں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے طالب علم کی حیثیت سے پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ جنہیں عرف عام میں قاری صاحب بھی کہا

کہانی: وجود کہانی کار: پی رومانوف مترجم: ل۔احمد …

کہانی: وجود کہانی کار: پی رومانوف مترجم: ل۔احمد یک طرفہ احوال سن کر رائے قائم کر لینا جہالت ہے۔ تعلیم و تہذیب کے مدعی اِس جہالت سے آلودہ ہوں تو اُسے خباثت ہی کہنا چاہیے۔ کسی کے بارے میں کوئی بُری بات سن کر رائے قائم کر لینے کے پیچھے ان…

عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض گل سے مطل…

عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض گل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرض عشق کی سرکار کو بے باک بالکل کر چکے اب نہ کچھ زنجیر سے مطلب نہ زنداں سے غرض کس سے ہم جھگڑیں نہیں اپنا کسی ملت میں میل عشق کے بندے کو کیا گبر و مسلماں سے غرض…