سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہونگے ہوئے نا…

سفر میں ہیں مسلسل ہم کہیں آباد بھی ہونگے ہوئے ناشاد جو اتنے تو ہم دل شاد بھی ہونگے زمانے کو برا کہتے نہیں ہم ہی زمانہ ہیں کہ ہم جو صید لگتے ہیں ہمیں صیاد بھی ہونگے بُھلا بیٹھے ہیں وہ ہر بات اس گذرے زمانے کی مگر قصّے اُس…

*آج – 16 / فروری / 1936* *اردو نظم کے موجودہ شعرا…

*آج - 16 / فروری / 1936* *اردو نظم کے موجودہ شعراء میں بلا مبالغہ سب سے بڑے شاعر” آفتاب اقبال شمیمؔ صاحب “ کا یومِ ولادت...* *آفتاب اقبال شمیمؔ*، *جہلم* میں *١٦ فروری ۱۹۳۶ء* میں پیدا ہوئے اور تمام عمر تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ دورانِ…

جب رات کی تنہائی ، دل بن کے دھڑکتی ھے یادوں کے دری…

جب رات کی تنہائی ، دل بن کے دھڑکتی ھے یادوں کے دریچوں میں ، چلمن سی سرکتی ھے لوبان میں چنگاری جیسے کوئی رکھ جائے یوں یاد تیری شب بھر ، سینے میں سُلگتی ھے یُوں پیار نہیں چھپتا ، پلکوں کے جھکانے سے آنکھوں کے لفافوں ، میں تحریر چمکتی ھے…

کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا آرزو لکھن…

کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا آرزو لکھنوی کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا موج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا دل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا راہ الفت میں سمجھ لو دل کو…

دردِ دل میں کمی نہ ھو جائے دوستی , دشمنی نہ ھو جائ…

دردِ دل میں کمی نہ ھو جائے دوستی , دشمنی نہ ھو جائے اپنی خُوئے وفا سے ڈرتا ھُوں عاشقی ، بندگی نہ ھو جائے تُم میری دوستی کا دَم نہ بھرو آسماں مُدعی نہ ھو جائے طالع بد وھاں بھی ساتھ نہ دے موت بھی زندگی نہ ھو جائے بیٹھتا ھے ھمیشہ…

سامنے منزل تھی ، اور پیچھے اُس کی آواز رُکتا تو س…

سامنے منزل تھی ، اور پیچھے اُس کی آواز رُکتا تو سفر جاتا ، جو چلتا تو بچھڑ جاتا منزل کی بھی حسرت تھی ، اور اُس سے محبت بھی اے دل تُو ھی بتا ، میں اُس وقت کِدھر جاتا ؟؟ مُدت کا سفر بھی تھا ، اور برسوں کی شناسائی رُکتا تو بکھر جاتا ، جو…

مرے خدا اسے آزاد کر یہ اچھا ہے حصار جسم میں ہر وق…

مرے خدا اسے آزاد کر یہ اچھا ہے حصار جسم میں ہر وقت میری جان ہے تنگ ... شاعرو نقاد جناب شمس رمزی کا یومِ وفات February 17, 2018 جنابِ شمس رمزی ماہرِ عروض معتبر شاعر اور انتہائی مخلص انسان تھے ....... کتنا شرمندہ کرے گی آج پھر بچوں کی…

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا شیوۂ عشق نہ…

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا شیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحتِ جاں کچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابرِ بہار جس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا شام ہو…

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…